میں دیکھتا ہوں کہ اس قدر مسلمان بد عملیوں کی وجہ سے مورد عتاب ہوئے۔دل بے قرار ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ جو صراط مستقیم رکھتے ہیں۔اپنی بد اعتدالیوں سے صرف اپنے آپ کو نقصان نہیں پہنچا تے،بلکہ اسلام پر ہنسی کرواتے ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ کسی گذشتہ مردم شماری کے وقت مسٹر ایبٹسن صاحب نے اپنی رپورٹ میں بہت کچھ لکھا تھا۔میری غرض اس سے یہ ہے کہ مسلمان لوگ مسلمان کہلا کر ان ممنوعات اور منہیات میں مبتلا ہوتے ہیں جو نہ صرف ان کو بلکہ اسلام کو مشکوک کر دیتے ہیں۔پس اپنے چال چلن اور اطوار ایسے بنا لو کہ کفار کو بھی تم پر(جو دراصل اسلام پر ہوتی ہے)نکتہ چینی کرنے کا موقعہ نہ ملے۔ اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہے تمہارا اصل شکر تقویٰ اور طہارت ہی ہے۔مسلمان کو پوچھنے پر الحمد للہ کہہ دینا سچا سپاس اور شکر نہیں ہے۔ اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت اور تقویٰ کی راہیں اختیار کر لیں ۔تو میں تمہیں بشارت دیت ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا مجھے یاد ہے کہ ایک ہندو سر رشتہ دار نے جس کا نام جگن ناتھ تھا اور جو ایک متعصب ہندو تھا بتلایا کہ امرتسر یا کسی جگہ میں وہ سر رشتہ دار تھا جہاں ایک ہندو در پردہ نماز پڑھا کرتا تھا،مگر بظاہر ہندو تھا۔میں اور دیگر دوسرے سارے ہندو اسے بہت برا جانتے تھے اور ہم سب اہلکاروں نے مل کر فیصلہ کر لیا کہ اس کو ضرور موقوف کرائیں ۔سب سے زیادہ شرارت میرے دل میںتھی۔میں نے کئی بار شکایت کی کہ اس نے یہ غلطی کی ہے۔اور یہ خلاف ورزی کی ہے۔مگر اس پر کوئی التفات نہیں ہوتی تھی۔لیکن ہم نے ارادہ کر لیا ہواتھا کہ اسے ضرور موقوف کروادیں گے۔اور اپنے اس ارادہ میں کامیاب ہونے کے لئے بہت سی نکتہ چینیاں بھی جمع کر لیں تھیں اور میںنے وقتاً فوقتاٍ ان نکتہ چینیوں کو صاحب بہادر کے رو برو پیش کر دیا تھا۔صاحب اگر بہت ہی غصہ ہو کر اس کو بلا بھی لیا کرتا تھا۔تو جوں ہی وہ سامنے آجاتا،تو گویا آگ پر پانی پڑ جاتا ۔معمولی طور پر نہایت نرمی سے فہمائش کر دیتا ۔گویا اس سے کوئی قصور سر زد نہیں ہوا ۔ تقویٰ کو رعب دوسروں پر بھی پڑ تا ہے اصل بات یہ ہے کہ تقویٰ کا رعب دوسروں پر بھی پڑتا ہے ۔اور خدا تعالیٰ متقیوں کوضائع نہیںکرتا ۔میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جو برے اکابر میں سے ہوئے ہیں۔ان کا نفس بڑا مطہر تھا۔ایک بار انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میرا دل دنیا سے برداشتہ ہے۔میں چاہتا ہوں کہ کوئی پیشو ا تلاش کروں جومجھے سکینت اور اطمینان کی راہ دکھلائے۔والدہ نے جب یہ دیکھا کہ اب یہ ہمارے کام کا نہیں رہا،تو ان کی بات کو مان لیا اور کہا کہ اچھا میں تجھے رخصت کرتی ہوں ۔یہ کہہ کر اندر گئین اور اسی مہریں جو اس نے جمع کیں ہوئی تھیں ،اٹھا لائی اور کہا کہ ان مہروں سے حصہ شرعی کہ موافق چالیس مہریںتیریں ہیں اور چالیس تیرے بڑے بھائی کی۔اس لئے چالیس مہریں تجھے بحصہ رسدی دیتی ہوں۔یہ کہہ کر چالیس مہریں ان کی بغل کے نیچے پیراہن میں سی دیںاور کہا کہ امن کی جگہ پہنچ کر نکال لینا اور عند الضرورت اپنے سرف میں لانا۔ سید عبدالقادر صاحب نے اپنی والدہ سے عرض کی کہ مجھے کوئی نصیحت فرمایں۔