سچا مسلمان کون ہے؟ میں کھول کر کہتا ہوں کہ جب تک ہر بات پر اللہ تعالیٰ مقدم نہ ہو جائے اور دل پر نظر ڈال کر وہ نہ دیکھ سکے کہ یہ میرا ہی ہے، اس وقت تک کوئی سچا مومن نہیں کہلا سکتا۔ایسا آدمی تو ال(عرف عام)کے طور پر مومن یا مسلمان ہے۔جیسے چوہڑے کو بھی مصلی یا مومن کہہ دیتے ہیں۔ مسلمان وہی ہے جو اسلم وجھہ للہ کا مصدا ق ہو گیا ہو۔وجہ منہ کو کہتے ہیں ۔مگر اس کا اطلاق ذات اور وجودپر بھی ہوتا ہے۔پس جس نے ساری طاقتیں اللہ کے حضور رکھ دیں ہوں ۔وہی سچا مسلمان کہلانے کا مستحق ہے۔مجھے یاد آیا کہ کسی مسلمان نے کسی یہودی کو دعوت اسلام کی تو مسلمان ہو جا۔مسلمان خود فسق وفجور میں مبتلا تھا۔یہودی نے اس فاسق سے کہا کہ تو پہلے اپنے آپ کو دیکھ اور تو اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تو مسلمان کہلاتا ہے۔خدا تعالیٰ اسلام کا مفہوم چاہتا ہے نہ نام اور لفظ۔یہودی نے اپنا قصہ بیان کیا کہ میں نے اپنے لڑکے کا نام خالد رکھا تھا ،مگر دوسرے دن مجھے اس قبر میں گاڑنا پڑا۔اگر صرف نام ہی میں برکت ہوتی تو وہ کیوں مرتا۔اگر کوئی مسلمان سے پوچھتا ہے کہ کیا تو مسلمان ہے؟تو وہ جواب دیتا۔الحمد للہ ۔ پس یاد رکھو کہ صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی،جب تک کہ عمل نہ ہو۔محض باتیں عندا للہ کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے:کبر مقتاً عنداللہ ان تقولوا مالا تفعلون (الصف:۴) اسلام کی خدمت کا شرف حاصل کرنے کا طریق ان پھر میں اپنے پہلے موضوع کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ یعنی صابروا ورابطوا (آل عمران:۲۰۱)جس طرح دشمن کے مقابلہ پر سرحد پر گھوڑا ہونا ضروری ہے تا کہ دشمن حد سے نہ نکلنے پائے۔اسی طرح تم بھی تیار رہو۔ایسا نہ ہو کہ دشمن سرحد سے نکل کر اسلام کو صدمہ پہنچائے۔میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اگر تم اسلام کی حمایت اور خدمت کرنا چاہتے ہو،تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو جس سے خود تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آسکو۔اور پھر تم اس خدمت کا شرف اور استحاق حاصل ہو۔تم دیکھتے ہو کہ مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہو گئی ہے۔قومیں ان کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتیں ہیں۔اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی کمزور اور پست ہو گئی،تو بس پھر تو خاتمہ ہی سمجھو۔تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قدسی قوت ان میں سرایت کرے اور وہ سرحد کے گھوڑوں کی طرح مضبوط اور محافظ ہو جائیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ متقیوں اور راستبازوں کے ساتھ ہی شامل حال ہوا کرتا ہے۔اپنے اخلاق اور اطوار ایسے نہ بناو جن سے اسلام کو داغ لگ جاویں۔بد کاروں اور اسلام کی تعلیم پر عمل نہ کرنے والے مسلمان سے اسلام کو داغ لگتا ہے۔کوئی مسلمان شراب پی لیتا ہے تو کہیں قے کرتا پھرتا ہے۔پگڑی گلے میں ہوتی ہے۔موریوںاور گندی نالیوں میں گرتا پھرتا ہے۔پولیس کے جوتے پڑتے ہیں۔ہندو اور عیسائی اس پر ہنستے ہیں۔اس کا ایسا خلاف شرع فعل اس کی ہی تضحیک کا موجب نہیں ہوتا بلکہ در پردہ اس کا اثر نفس اسلام تک پہنچتا ہے۔مجھے ایسی خبریںیا جیل خانوں کی رپورٹیں پڑھ کر سخت رنج ہوتا ہے۔جب