کر رہا ے۔اس کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور جب میں آگے بڑھا تو وہی بولو ۔کیا میرا دانہ ڈالنا ضائع گیا ،یا ان کا عوض ملا؟
نیکی کا اجر ضائع نہیں ہوتا
اب خیال کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کافر کی نیکی کا بھی اجر ضائع نہیں کیا ،تو کیا مسلمان کی نیکی کا اجر ضائع کر دے گا؟مجھے ایک صحابی کاذکر یاد آیا۔کہ اس نے کہا یا رسول اللہ(آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم) میں نے اپنے کفر کے زمانے میں بہت سے صدقات کیے ہیں۔کیا ان کا اجر مجھے ملے گا۔آپؐ نے فرمایا۔کہ وہی صدقات تو تیرے اسلام کا موجب ہو گئے۔
نیکی کیا چیز ہے؟
نیکی ایک زینہ ہے اسلام اور خدا کی طرف چڑھنے کا،لیکن یاد رکھو کہ نیکی کیا چیز ہے۔شیطان ہر ایک کی راہ میں لوگوں کی را زنی کرتا ہے اور ان کو راہ حق سے بہکاتا ہے۔مثلاً رات کو روٹی زیادہ پک گئی اور صبح باسی بچ رہی۔عین کھانے کے وقت کہ اس کے سامنے اچھے اچھے کھانے رکھے ہین۔ابھی ایک لقمہ نہیں لیا کہ دروازہ پر آکر فقیر نے صدا کی اور روٹی مانگی۔کہا کہ سائل کو باسی روٹی دے دو۔کیا یہ نیکی ہو گی؟باسی روٹی تو پڑی ہی رہنی تھی۔تیغم پسند اسے کیوں کھانے لگے؟اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ویطعمون الطام علی حبہ مسکیناویتیماًواسیراً(الدھر:۹) یہ بھی معلوم رہے کہ طعام کہتے ہی پسندیدہ طعام کو ہیں۔سڑا ہوا باسی طعام نہیں کہلاتا۔الغرض اس رکابی میں سے جس میں ابھی تازہ کھانا لذیذاور پسندیدہ رکھا ہوا ہے۔کھانا شروع نہیں کیا ۔فقیر کی صدا پر نکال دے،تو یہ تو نیکی ہے۔
بے کار اور نکمی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعوی نہیں کر سکتا۔نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ نکمی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ نصح صریح ہے:لن تنالو البر حتیٰ تنفقو مما تحبون(آل عمران:۹۳) جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے،اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی خوشی کا حاصل کرنا چاہتے تو کیونکر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو۔کیا صحابہ کرام ؓمفت میں اس درجہ تک پہنچ گئے جو ان کو حاسل ہوا۔دنیاوی خطابوں کے حاصل کرنے کے لئے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں ،تب کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی،ملتا ہے۔پھر خیال کرو کہ رضی اللہ تعالیٰ کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولیٰ کریم کی رضامندی کا نشان ہے،کیا یونہی آسانی سے مل گیا؟
بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے،حاصل نہیں ہو سکتی۔جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں ،خدا ٹھگا نہیں جا سکتا۔مبارک ہیں وہ لوگ جو رضائے الہی کے حصول کے لئے تکلیف کی پرواہ نہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی ہے۔