اور ریاضت سے تزکیہ نفوس نہیں ہوتا،پاک عقل آسمان سے اتر نہیں سکتی۔ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا اور اپنے دین اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تائید میں غیرت کھا کر ایک انسان کو جو تم میں بول رہا ہے بھیجا تا کہ وہ اس روشنی کی طرف لوگوں کو بلائے۔اگر زمانہ میں ایسا فساد اور فتنہ نہ ہوتا اور دین کو محو کرنے کے لئے جس قسم کی کوششیں ہو رہیں ہیں نہ ہوتیں،تو چنداں حرج نہ ہوتا ۔لیکن اب تم دیکھتے ہو کہ ہر طرف یمن ویسار ہی کو معدوم کرنے کی فکر میں جملہ اقوام لگی ہوئی ہیں ۔مجھے یاد ہے اوربراہین احمدیہ میں بھی میں نے ذکر کیا ہے کہ اسلام کے خلاف چھ کروڑ کتابیں تصنیف اور تالیف ہو کر شائع کی گئی ہیں ۔عجیب بات ہے کہ ہندوستان کے مسلامونوں کی تعداد بھی چھ کروڑ کتابیں تصنیف اور تالیف ہو کر شائع کی گئیں ہیں۔عجیب بات ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی تعداد بھی چھ کروڑ اور اسلام کے خلاف کتابوں کا شمار بھی اسی قدر ہے۔اگر اس زیادتی تعداد کو جو اب تک اس تصنیفات میں ہوئی ہیں چھوڑ بھی دیا جائے،تو بھی ہمارے مخالف ایک ایک کتاب ہر ایک مسلمان کے ہاتھ میں دے چکے ہیں ۔اگر اللہ تعالیٰ کا جوش غیرت میں نہ ہوتا۔اور انا لہ لحافظون(الحجر:۱۰)اس کا وعدہ صادق نہ ہوتا تو یقیناً سمجھ لو کہ اسلام آج دنیا سے اٹھ جاتا اور اس کا نام ونشان تک مٹ جاتا،مگر نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کا پوشیدہ ہاتھ اس کی حفاظت کر رہا ہے۔مجھے افسوس اور رنج اس امر کا ہوتا ہے کہ لوگ مسلمان کہلا کر ناطے بیاہ کے برابر بھی تو اسلام کا فکر نہیں کرتے اور مجھے اکثر بار پڑھنے کا اتفاق بھی ہواہے کہ عیسائی عرتوں تک مرتے وقت لکھو کھا روپیہ عیسائی دین کی ترویج اور اشاعت کے لئے وصیت کر جاتی ہیں اور ان کا پنی زندگیوں کا عیسائیت کی اشاعت مین صرف کرنا تو ہم روز دیکھتے ہیں ۔ہزار ہا لیڈیز مشنری،گھروں او کوچوں میں پھرتی ہے اور جس طرح بن پڑے نقد ایمان چھینتی پھرتی ہے۔مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ پچاس روپیہ بھی اشاعت اسلام کے لئے وصیت کر کے مرا ہو ۔ہاں شادیوں اور دنیاوی رسوم پر تو بے حد اسراف ہوتے ہیں اور قرض لے کر بھی دل کھول کر فضول خرچیاں کی جاتی ہیں ،مگر خرچ کرنے کے نہیں ،تو صرف اسلام کے لئے نہیں۔افسوس !افسوس! ! اس سے بڑھ کر اور مسلمانوں کی حالت قابل رحم کیا ہو گی؟ ایک نیکی سے دوسری نیکی پیدا ہوتی ہے اصل بات یہ ہے کہ بد اعمالی کا نتیجہ بد اعمالی ہوتا ہے۔اسلام کے لئے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہے کہ ایک نیکی سے دوسری نیکی پیدا ہو جاتی ہے مجھے یاد آیا تذکرۃ الاولیاء میں میں نے پڑھا تھا کہ ایک آتش پرست نوے برس کی عمر کا تھا۔اتفاقاً بارش کی جھڑی جو لگ گئی ،تو وہ اس جھڑی میں کوٹھے پر دانہ ڈال رہا تھا ۔کسی بزرگ نے پاس سے کہا کہ ارے بڈھے تو کیا کرتا ہے؟اس نے جواب دیا کہ بھائی چھ سات روز مسلسل بارش ہوتی رہی ہے۔ چڑیوں کو دانہ ڈالتا ہوں۔ اس نے کہا کہ تو عبث یہ حرکت کرتا ہے۔تو کافر ہے۔تجھے اجر کہاں۔بوڑھے نے جواب دیا ۔مجھے اس کا اجر ضرور ملے گا۔بزرگ صاحب فرماتے ہیں کہ میں حج کو گیا ،تو دور سے کیا دیکھتا ہوں کہ وہی بڈھا طواف