سے زیادہ روپیہ جمع کر لیا ۔کالج کی عالیشان عمارت اور سامان بھی پیدا کیا۔اگر مسلمان پورے طور پر اپنے بچوں کی طرف توجہ نہ دیں گے،تو میری بات سن رکھیں کہ ایک وقت بچے بھی ان کے ہاتھ سے جاتے رہیں گے۔
صحبت کا اثر
مثل مشہور ہے،’’تخم تاثیر صحبت را اثر‘‘اس کے اول جزو (حصہ)پر کلام ہو تو ہو،لیکن دوسرا حصہ’’صحبت رااثر‘‘ایسا ثابت شدہ مسئلہ ہے کہ اس پر ہم کو زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ۔ہر ایک شریف قوم کے بچوں کا عیسائیوں کے پھندے میں پھس جانا اور مسلمانوں حتیٰ کہ غوث وقطب کہلانے والوںکی اولاد اور سادات کے فرزندوں کا رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنا دیکھ چکے ہیں ان صحیح النسب سیدوںکی جو اولاد اپنا سلسلہ حضرت امام حسینؓ تک پہنچاتے ہیں ۔ہم نے کرسچن عیسائی دیکھی ہے ۔اور بانی اسلام کی نسبت قسم قسم کے الزام (نعوذ باللہ)لگاتے ہیں ۔ایسی حالت میں بھی اگر کوئی مسلمان اپنے دین اور اور اپنے نبیؐ کے لئے غیرت نہیں رکھتا ،تو اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا ؟
اگر تم اپنے بچوں کو عیسائیوں ،آریوں اور دوسروں کی صحبت سے نہیں بچاتے یا کم از کم نہیںبچانا چاہتے،تو یاد رکھو کہ نہ صرف اپنے اوپر بلکہ قوم پر اور اسلام پر ظلم کرتے اور بہت بڑا بھاری ظلم کرتے ہو۔اس کے یہ معنی ہیں کہ گویا تمہیں اسلام کے لئے کچھ غیرت نہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عزت تمہارے دل میں نہیں ۔
راستباز اور متقی بنو تا کہ عقل میں جودت اور ذہانت پیدا ہو
ذرا سوچو اور سمجھو ۔خدا کے واسطے عقل سے کام لو اور اس لئے کہ عقل میں جودت اور ذہانت پیدا ہو راستبازی اور متقی بنو ۔ پاک عقل آسمان سے آتی ہے اور اپنے ہمراہ ایک نور لاتی ہے ،لیکن وہ جوہر قابل کی تلاش میں رہتی ہے۔اس پاک سلسلہ کا قانون وہی قانون ہے جو ہم جسمانی قانون میں دیکھتے ہیں ۔بارش آسمان سے پڑتی ہے۔لیکن کوئی جگہ اس بارش سے گلزار ہوتی ہے اورکہیں کانٹے اور جھاڑیاں ہی اگتی ہیں اور کہیں وہی قطرہ بارش سمندر کی تہہ میں جا کر ایک گوہر شاہوار بنتا ہے۔بقول کسے
در باغ لالہ رویدودر شورہ بول خس
اگر زمین قابل نہیں ہوتی ،تو بارش کا کچھ فائدہ نہیں پہنچتا،بلکہ الٹا ضرر اور نقصان ہوتا ہے۔اسی لئے آسمانی نور اترا ہے اور وہ دلوں کو روشن کرنا چاہتا ہے۔اس کے قبول کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو تیار ہو جاؤ تا ایسا نہ وہ کہ بارش کی طرح کہ جو زمین جوہر قابل نہیں رکھتی ،وہ اس کو ضائع کر دیتی ہے۔تم بھی باوجود نور کی موجودگی کے تاریکی میں چلو اور ٹھوکر کھا کر اندھے کنویں میں گر کر ہلاک ہو جاو ۔اللہ تعالیٰ مادر مہربان سے بھی بڑھ کر مہربان ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کی مخلوق ضائع ہو۔وہ ہدایت اور روشنی کی راہیں تم پر کھولتا ہے،مگر تم ان پر قدم مارنے کے لئے عقل اور تزکیہ نفوس سے کام لو ۔جیسے زمین کے جب تک ہل چلا کر تیار نہیںکی جاتی ،تخمریزی اس میں نہیں ہوتی۔اسی طرح جبتک مجاہدہ