بات یہ ہے کہ ان علوم کی تعلیمیں پادریت اور فلسفیت کے رنگ میں دی جاتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان تعلیمات کا دلدادہ چند روز تو حسن ظن کی وجہ سے جو اس کو فطرتاً حاصل ہے رسول اسلام کا پابند رہتا ہے ،لیکن جوں جوں ادھر قدم بڑھتا چلا جاتا ہے،اسلام کو دور چھوڑ دیتا ہے اور آخر ان رسوموں کی پابندی سے بالکل ہی رہ جاتا ہے اور حقیقت سے کچھ تعلق نہیں رہتا۔یہ نتیجہ پیدا ہوتا ہے اور ہوا ہے یکطرفہ علوم کی تحقیقات اور تعلیم میں منہمک ہونے کا۔ بہت سے لوگ قومی لیڈر کہلا کر بھی اس رمز کو نہیں سمجھ سکے کہ علوم جدیدہ کی تحصیل جب ہی مفید ہو سکتی ہے ،جب محض دینی خدمت کی نیت سے ہو اور کسی اہل دل آسمانی عقل اپنے اندر رکھنے والے مرد خدا کی صحبت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ میرا ایمان یہی کہتا ہے کہ اس دہریت نما نیچریت کے پھیلنے کی یہی وجہ ہے کہ جو شیطانی حملے الحاد کے زہر سے بھرے ہوئے علوم طبعی ،فلسفی یا ماہیت دانوں کی طرف سے اسلام پر ہوتے ہیں ۔ان کا مقابلہ کرنے کے لئے یا اُن کا جواب دینے کے لئے اسلام اور آسمانی نور کو عاجز سمجھ کر عقلی ڈھکوں اور فرضی اور قیاسی دلائل کو کام میں لایا جاتا ہے ،جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے مجیب قرآن مجید کے مطالب سے دور جا پڑتے ہیں اور الحاد کا ایک چھپا ہوا پر وہ اپنے دل پر ڈال لیتے ہیں ۔جو ایک وقت آکر اگر اللہ تعالیٰ اپنا فضل نہ کرے،تو دہریت کا جامہ پہن لیتا ہے اوروہی رنگ دل کو دیتا ہے۔جس سے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ آجکل کے تعلیم یافتہ لوگوں پر ایک اور بڑی آفت جو آکر پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کو دینی علوم سے مطلق مس نہیں ہوتا ۔پھر جب وہ کسی ہیت دان ے فلسفہ دان کے اعتراض پڑھتے ہیں، تو اسلام کی نسبت شکوک اور وساوس ان کو پیدا ہو جاتے ہیں ۔تب وہ عیسائی یا دہریہ بن جاتے ہیں۔ایسی حالت میں ان کے والدین بھی ان پر بڑا ظلم کرتے ہیں ۔کہ دینی علوم کی تحصیل کے لئے ذرا سا وقت بھی ان کو نہیں دیتے۔اور ابتدا ہی سے ایسے دھندوںاور بکھیڑوں میں ڈال دیتے ہیں جو انہیں پاک دین سے محروم کر دیتے ہیں۔ دینی تعلیم وتربیت کا صحیح وقت یہ بات بھی غور کرنے کے قابل ہے کہ دینی علوم کی تحصیل کے لئے طفولیت کا زمانہ بہر ہی مناسب اور موزوں ہے۔جب داڑھی نکل آئی ،تبضرب یضرب یاد کرنے بیٹھے تو کیا خاک ہو گا۔طفولیت کا حافظہ تیز ہوتا ہے ۔انسانی عمر کے کسی دوسرے حصہ میں ایسا حافظہ کبھی نہیں وتا۔مجے خوب یاد ہوتا ہے کہ طفولیت کی بعض باتیں تو اب تک یاد ہیں ،لیکن پندرہ برس پہلے کی اکثر باتیں یاد نہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی عمر میںعلم کے نقوش ایسے طور پر اپنی جگہ کرلیتے ہیں۔اور قوی کے نشوونما کی عمر ہونے کے باعث ایسے دل نشین ہو جاتے ہیں کہ پھرضائع نہیں ہو سکتے۔غرض یہ ایک طویل امر ہے ۔مختصر یہ کہ تعلیمی طریق میں اس امر کا لحاظ اور خاص توجہ چاہیے کہ دینی تعلیم ابتدا سے ہی ہو ۔اور میری ابتدا سے یہ ہی خواہش رہی ہے اور اب بھی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرے۔دیکھو تمہارے ہمسایہ قوموں یعنی آریوں نے کس قدر حیثیت تعلیم کے لئے بنائی کئی لاکھ