نہیں ہوتی۔ اس سے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بڑی صداقت معلوم ہوتی ہے کیونکہ جو کامیابی اور تاثیر فی القلوب آپؐ کے حصہ میں آئی اس کی کوئی نظیر بنی آدم کی تاریخ میں نہیں ملتی اور یہ سب اس لئے ہوا کہ آپ کے قول وفعل میں پوری مطابقت تھی۔
میری ان باتوں پر عمل کرو
میری یہ باتیں اس لئے ہیں کہ تا تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اور اس تعلق کی وجہ سے میرے عضاء ہو گئے ہیں۔ ان باتوں پر عمل کرو ۔اور عقل اور کلام الہی سے کام لو تا کہ سچی معرفت اور یقین کی روشنی تمہارے اندرپیدا ہو اور تم دوسرے لوگوں کو ظلمت سے نور کی طرف لانے کا وسیلہ بنو۔ اس لئے کہ ٓاجکل اعتراضوں کی بنیاد طبعی اور طبابت اور ہیت کے مسلئے کی بناء پر ہے۔ اس لئے لازم ہواکہ ان علوم کی ماہیت اور کیفیت سے آگاہی حاصل کریں ،تا کہ جواب دینے سے پہلے اعتراض کی حقیقت تو ہم پر کھل جائے۔
علوم جدیدہ کی تحصیل
میں ان مولویوں کو غلطی پر جانتا ہوں جو علوم جدیدہ کی تعلیم کے مخالف ہیں۔وہ دراصل اپنی غلطی اور کمزوری کو چھپانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ علوم جدیدہ کی تحقیقات اسلام سے بد ظن اور گمراہ کر دیتی ہے اور یہ قرار دیئے بیٹھے ہیں کہ گویاعقل اور سائنس اسلام سے بالکل متضادچیزیں ہیں چونکہ خودفلسفہ کی کمزوریوں کو ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس لئے اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لئے یہ بات تراشے ہیں کہ علومِ جدیدہ کو پڑھنا ہی جائزنہیں۔ اُن کی رُوح فلسفہ سے کانپتی ہے اور نئی تحقیقات کے سامنے سجدہ کرتی ہے۔
سچافلسفہ قرآن میں ہے
مگر وہ سچافلسفہ ان کو نہیں ملا جو الہام الٰہی سے پیدا ہوتا ہے جو قرآن کریم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے وہ ان کو اور صرف انہیں کو دیا جاتا ہے جو نہایت تذلل اور نیستی سے اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے دروازے پر پھینک دیتے ہیں۔ جن کے دل اور دماغ سے متکبر انہ خیالات کا تعفن نکل جاتا ہے اور جو اپنی کمزوریوںکااعتراف کرتے ہوئے گڑ گڑا کر سچی عبودیت کا اقرار کرتے ہیں۔
علوم جدیدہ کو اسلام کے تابع کرنا چاہیے
پس ضرورت ہے کہ آجکل دین کی خدمت اور اعلائے کلمۃ اللہ کی غرض سے علوم جدیدہ حاصل کرو اور بڑے جدو جہد سے حاصل کرو ۔لیکن مجھے یہ بھی تجربہ ہے جو بطور انتباہ میں بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ ان علوم ہی میں یکطرفہ پڑ گئے اور ایسے محو اور منہمک ہوئے کہ کسی اہل دل اور اہل ذکر کے پاس بیٹھنے کا ان کو موقعہ نہ ملا اور خود اپنے اندر الہی نور نہ رکھتے تھے ۔وہ عموماً ٹھوکر کھا گئے اور اسلام سے دور جا پڑے اور بجائے اس کے کہ ان علوم کو اسلام کے تابع کرتے ۔الٹا اسلام کو علوم کے ماتحت کرنے کی بے سود کوشش کر کے اپنے زعم میں دینی اور قومی خدمات کے متکفل بن گئے۔یاد رکھو کہ یہ کام وہی کر سکتا ہے ۔یعنی دینی خدمات وہی بجا لا سکتا ہے جو آسمانی روشنی اپنے اندر رکھتا ہو۔