تصرف تھا۔ڈاکٹر کلارک جیساآدمی جو مذہبی حیثیت سے اثر ڈالنے والا آدمی تھا۔پھر اس کے ساتھ آریوں کی طرف سے پنڈت رام بھجدت وکیل شریک ہوا اور مولوی محمد حسین جیسا دشمن بطور گواہ پیش ہوا ۔اور خود عبدا لحمید کا یہ بیان کے مجھے قتل کے لئے ضرور بھیجا تھا اور پھر اس کا یہ بیان امرت سر میں ہوا ۔ڈپٹی کمیشنر کے سامنے بھی اس نے یہی کہا ۔اب یہ کس کا کام تھا کہ اس نے کپتان ڈگلس کے دل میں ایک ڈاکہ ڈالا کہ عبد الحمید کے بیان پر شبہ کرے اور اصل حقیقت کے معلوم کرنے کے واسطے اسے دوبارہ پولیس کے سپرد کرے۔غرض جو کچھ اس مقدمہ میں ہوا ،اس سے صاف طور پر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے تصرف کا پتہ لگتا ہے۔میرا مطلب اس مقدمہ کے بیان سے صرف یہ بڑی نادانی اور گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اسی پیمانہ سے ناپیں ۔جس سے ایک عاجز انسان زید بکر کو ناپا جائے۔ پس یہ کہنا کہ آدم کی پسلی نکال لی تھی اور حوا اس پسلی سے نبی تو پھر پسلی کہاںسے آگئی۔سخت بے وقوفی اور اللہ تعالیٰ کے حضور سوء ادبی ہے۔ یاد رکھو۔یورپی فلسفہ ضلالت سے بھرا ہوا ہے۔ یہ انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔ایسا ہی یہ کہنا کہ انسان پر کوئی ایسا وقت نہیں آیا کہ اسے مٹی سے پیدا کیا ہو درست نہیں ہے۔نوعی قدم کا میں ہر گز ہر گز قائل نہیں ہوں۔ہاں میں یہ مانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے خالق ہے۔کئی بار دنیا معدوم ہوئی اور پھر از سر نو پیدا کر دی۔یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔جب ایک مر جاتا ہے تو یہ کیوں جائز نہیں کہ ایک وقت آوے کہ سب مر جاویں۔قیامت کبریٰ کے تو ہندو اور یونانی بھی قائل ہیں۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کے محدود القویٰ ہستی سمجھتے ہیں۔وہ ما قدرو االلہ حق قدرہ(الحج:۷۵)میں داخل ہیں جو ایک حد تک ہی خدا کو مانتے ہین۔یہ نیچریت کا شعبہ ہے۔ قرآن کریم یو صاف بتلاتا ہے ان ربک فعال لما یرید(ھود:۱۰۸)اور انما امرہ اذا ارادشیا ان یقول لہ کن فیکون(یٰس:۸۳)اللہ تعالیٰ کی ان ہی قدرتوں اور فوق الفوق نے میرے دل میں دعا کے لئے ایک جوش ڈال رکھا ہے۔  قبولیت دعا کا فلسفہ دعا بڑی چیز ہے!افسوس لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ کیا ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر دعا جس طرز اور حالت پر مانگی جاوے،ضرور قبول ہونی چاہیے۔اس لئے جب وہ کوئی دعا منگتے ہیں اور پھر وہ اپنے دل میں جمائی ہوئی صورت کے مطابق اس کو پورا ہوتا نہیں دیکھتے،تو مایوس اور نامید ہو کر اللہ تعالیٰ پر بد ظن ہو جاتے ہیں؛حالانکہ مومن کی یہ شان ہونی چاہیے کہ اگر بظاہر اسے اپنی دعامیں مراد حاصل نہ ہو ،تب بھی نہ امید نہ ہو۔کیونکہ رحمت الہی نے اس دعا کو اس کے حق میں مفید قرار نہیں دیا ۔دیکھو اگر بچہ ایک آگ کے انگارے کو پکڑنا چاہے تو ماں دور کر اس کو پکڑ لے گی۔بلکہ اگر بچہ کی اس نادانی پر ایک تھپڑ بھی لگا دے ،تو کوئی تعجب نہیں۔اسی طرح تو مجھے ایک لذت اور سرار آجاتا