موحد میرے پاس آیا۔میں نے اس سے پوچھا کہ مسیح جو چڑیاں بنایا کرتے تھے۔اب تو وہ بہت ہو گئی ہوں گی۔کیا فرق کر سکتے ہو؟اس نے کہا ہاں مل جل گئی ہیں۔اسی طرح پر ان لوگوں نے مسیح کو نصف خدائی کا دعویدار بنا لیا ہے ۔ایسا ہی انہوںنے دجال کی نسبت مان رکھا ہے کہ وہ مُردوں کو زندہ کرے گا ۔اور یہ کرے گا اور وہ کرے گا۔افسوس کہ قرآن تو لا الہ لا اللہ کی تلوار سے تمام ان باطل معبودوں کو قتل کرے گا،جن میں خد اصفات مانی جائیں۔پھر یہ دجال کہاں سے نکل آیا ۔سورۃ فاتحہ میں یہودی اور عیسائی بننے سے بچنے کی دعا تو سکھلائی،کیا دجال کا ذکر خدا کو یاد نہ رہا تھا جو اتنا بڑا فتنہ تھا؟اصل یہ تھا کہ ان لوگوں کی عقل مارہ گئی۔اور یہ اس کے مصداق ہیں۔یکے بر سر شاخ وبن مے برید۔ یہ لوگ جب اس طرح پر اسلام کو ذلیل کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق کہ ان نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحا فظون(الحجر:۱۰)قرآن شریف کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے چودھویں صدی کے سر پر مجھے بھیجا۔ کیا نہیں دیکھتے کہ کس طرح پر اس کے نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔خسوف وکسوف رمضان میں ہو گیا۔کیا ہو سکتا ہے کہ مہدی موجود نہ ہو اور یہ مہدی کا نشان پورا ہو جاوے۔کیا خد اکو دھوکہ لگا ہے؟پھر اونٹ بیکار ہونے پر بھی مسیح نہ آیا۔آسمان اور زمین کے نشان پورے ہو گئے۔زمانہ کی حالت خود تقاضا کرتی ہے کہ آنے والا آوے،مگر یہ تکذیب ہی کرتے ہیں۔آنے والا آگیا۔ان کی تکذیب اور شور بکا سے کچھ نہ بگڑے گا۔ان لوگون کی ہمیشہ سے اسی طرح کی عادت رہی ہے۔خدا کی باتیں سچی ہیں اور وہ پوری ہو کر رہتی ہیں۔ پس تم ان صحبتوں سے بچتے رہو اور دعاؤں میں لگے رہو اور اسلام کی حقیقت اپنے اندر پیدا کرو۔؎۱ دسمبر ۱۹۰۰؁ء حوا کی پیدائش فرمایا:حوا پسلی ہی سے بنائی گئی ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان لاتے ہیں۔ہاں پھر اگر کوئی یہ کہے کہ ہماری پسلی ہی نہ ہوتی۔تو میں کہتا ہوں کہ یہ قیاس قیاس مع الفارق ہے۔اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو ۔میں اگر خدا تعالیٰ کو قادر او ر عظیم الشان نہ دیکھتا تو یہ دعاؤں کی قبولیت کے نمونے جو دیکھتا ہوں،نظر نہ آتے۔دیکھو کپتان ڈگلس کے سامنے جو مقدمہ تھا اس میں کس کا