کی طرف ظاہری سامان کچھ نہ تھا۔اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی جگی دعا کی اللھم ان اھلکت ھذہ العصابۃ لن تعبد فی الارض ابداًیعنی اے اللہ!اگر آج تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ ہو گا۔ آج وہی بدر والا معاملہ سنو!میں بھی یقیناً آج یہ کہتا ہوں کہ وہ برد والا معاملہ ہے ۔اللہ تعالیٰ اسی طرح ایک جماعت تیار کر رہا ہے۔وہی بدر اور اذلۃ کالفظ موجود ہے۔کیا یہ جھوٹ ہے کہ اسلام پر ذلت نہیں آئی؟نہ سلطنت ظاہری میں شوکت ہے۔ایک یورپ کی سلطنت منہ دکھاتی ہے۔تو بھاگ جاتی ہے اور کیا مجال ہے جو سر اٹھائیں۔اس ملک کا کیا حال ہے؟کیا اذلۃ نہیں ہیں۔ہندو بھی اپنی طاقت میں مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔کوئی ایک ذلت ہے جس میں ان کا نمبر بڑھا ہوا نہیں ہے ؟جس قدر ذلیل سے ذلیل پیشے ہیں،وہ ان میں پاؤ گے۔ٹکر گدا مسلمانوں ہی میں پاؤ گے۔جیل خانوں میں جاؤتو جرائم پیشہ گرفتار مسلمانوں ہی کو پاؤ گے۔شراب خانوں میں جاؤ،کثرت سے مسلمان۔اب بھی کہتے ہیں۔ذلت نہیں ہوتی؟کروڑ ہا ناپاک اور گندی کتابیں اسلام کے رد میں تالیف کی گئیں۔ہماری قوم میں مغل سید کہلانے والے اور شریف کہلانے والے عیسائی ہو کر اسی زبان سے سید المعصومین خاتم النبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کوسنے لگے۔صفدر علی اور عماد الدین وغیرہ کون تھے؟امہات المومنین کا مصنف کون ہے؟ جس پر اس قدر واویلا اور شور مچایا گیا اور آخر کچھ بھی نہ کر سکے۔اس پر بھی کہتے ہیں کہ ذلت نہیں ہوئی۔کیا تم تب خوش ہوتے کہ اسلام کا رہا سہا نام بھی باقی نہ رہتا،تب محسوس کرتے کہ ہاں اب ذلت ہوئی ہے!!! آہ!میں تم کو کیوں کر دکھاؤں جو اسلام کی حالت ہو رہی ہے۔دیکھو!میں پھر کھول کر کہتا ہوں کہ یہ بدر کا ہی زمانہ ہے۔اسلام پر ذلت کا زمانہ آچکا ہے،مگر اب خدا نے چاہا کہ اس کی نصرت کرے؛چنانچہ اس نے مجھے بھیجا ہے۔کہ میں اسلام کو براہین اور حجج ساطعہ کے ساتھ تمام ملتوں اور مذہبوں پر غالب کر کے دکھاؤں۔اللہ تعالیٰ نے اس مبارک زمانہ میں چاہا ہے کہ اس کا جلال ظاہر ہو ۔اب کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔جس طرح پہلے صحابہ ؓ کے زمانہ میں چاروں صفات کی ایک خاص تجلی ظاہر ہوئی تھی۔اب پھر وہی زمانہ ہے اور ربوبیت کا وقت آگیا ہے۔نادان مخالف چاہتے ہیں کہ بچہ کو الگ کر دیں،مگر خدا کی ربوبیت نہیں چاہتی۔بارش کی طرح اس کی رحمت برس رہی ہے۔یہ مولوی حامی دین کہلانے والے مخالفت کر کے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بھجا دیں۔مگر یہ نور پورا ہو کر رہے گا۔اسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔یہ خوش ہوتے ہیں اور تسلیم کر لیتے ہیں۔جب پادری اٹھ اٹھ کر کہتے ہیں کہ تمہارا نبی مر گیا۔اور زندہ نبی مسیح ہی ہے اور مس شیطان سے مسیح ہی بچا ہوا ہے۔اور مسیح نے مُردوں کو زندہ کیا ۔یہ بھی تائید کر کے کہہ دیتے ہیں کہ ہاں چڑیاں بھی بنایا کرتے تھے۔ایک شخص