مسیح موعود ؑ کے زمانہ کی جماعت بھی صحابہ ہی ہو گی لیکن بات بڑی غور طلب ہے کہ صحابہ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو،جو  پہلے گزر چکے بلکہ ایک اور گروہ بھی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے۔وہ بھی صحابہ ہی میں داخل ہیں جو احمد کے بروز کے ساتھ ہوں گے۔چنانچہ فرمایا۔وآخرین منہم لما یلحقوا بہم(الجمعۃ:۴)یعنی صحابہ کی جماعت کو اسی قدر نہ سمجھو،بلکہ مسیح موعود ؑ کے زمانہ کی جماعت بھی صحابہ ہی ہو گی۔ اس آیت کے متعلق مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود کی جماعت ہے منہم کے لفظ سے پایا جاتا ہے کہ باطنی توجہ اور استغفار صحابہ ہی کی طرح ہو گا۔صحابہ کی تربیت ظاہری طور پر ہو چکی تھی،مگر ان کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا۔وہ بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تر بیت کے نیچے ہوں گے۔اس لئے علماء نے ان سب گروہ کا نام ہی صحابہ رکھا ہوا ہے۔جیسے ان صفات اربعہ کاظہور ان صحابہؓ میں ہوا ،ویسے ہی ضروری ہے کہ وآخرین منہم لما یلحقوا بہم کی مصداق جماعت صحابہ میں بھی ہو۔ اب دیکھو کہ صحابہ کو بدر میں نصرت دی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ نصرت ایسے وقت میں دی گئی جبکہ تم تھوڑے تھے اس بدر میں کفر کا خاتمہ ہو گیا۔ واقعہ بدر میں مسیح موعودؑ کے زمانہ کی پیش گوئی بدر پر ایسے عظیم الشان نشان کے اظہار میں آئیندہ کی بھی ایک خبر رکھی گئی تھی۔ اور وہ یہ کہ بدر چودھویں کے چاند کو کہتے ہیں۔اس سے چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کے اظہار کی طرف بھی ایماء ہے۔او یہ چودھویں صدی وہی صدی ہے جس کے لئے عورتیں تک کہتی تھیں کہ چودھویں صدی خیرو برکت کی آئے گی۔خدا کی باتیں پوری ہوئیں اور چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کے منشاء کے موافق اسم احمد کا بروز ہوا اور وہ میں ہوں۔جس کی طرف اس واقعہ بدر میں پیش گوئی کی گئی تھی۔جس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سلام کہا ۔مگر افسوس کہ جب وہ دن آیا اور چودھویں کا چاند نکلا تو دکاندار،خود غرض کہا گیا۔افسوس ان پر جنھوں نے دیکھا اور نہ دیکھا۔وقت پایا اور نہ پہچانا۔وہ مر گئے جو منبروں پر چڑھ چڑھ کر رویا کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں یہ ہو گا اور وہ رہ گئے جو اب منبروں پر چڑھ کر کہتے ہیں کہ جو آیا کاذب ہے!!!ان کو کیا ہو گیا۔یہ کیوں نہیں دیکھتے اور کیوں نہیں سوچتے۔اس وق بھی اللہ تعالیٰ نے بدر ہی میں مدد کی تھی۔اور وہ مدد اذلۃ کی مدد تھی۔جس وقت تین سو تیرہ آدمی صرف میدان میں آئے تھے۔اور کل دو تین لکڑی کی تلواریں تھیں۔اور ان تین سو تیرہ میں زیادہ تر چھوٹے بچے تھے۔اس سے زیادہ کمزوری کی حالت کیا ہو گی اور دوسری طرف ایک بڑی بھاری جمیعت تھی اور وہ سب کے سب چیدہ چیدہ جنگ آزمودہ اور بڑے بڑے جان تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم