صفتیں رب العالمین،الرحمن،الرحیم،مالک یوم الدین بیان کی ہیں۔ لحمد للہ کا مظہر امیں نے ابھی بیان کیا ہے کہ الحمد للہ کا مظہر رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دو ظہوروں محمد اور احمد میں ہوا ۔اب نبی کامل صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ان صفات اربعہ کو بیان کر کے صحابہ کرامؓ کی تعریف میں پورا بھی کر دیا۔گویا اللہ تعالیٰ ظلی طور پر اپنی صفات دینا چاہتا ہے۔اس لئے فنا فی اللہ کے یہی معنی ہیں کہ انسان الہی صفات کے اندر آجاوے۔ مظہر صفات باری صلی اللہ علیہ والہ وسلم اب دیکھو کہ ان صفات اربعہ کا عملی نمونہ صحابہ میں کیسا دکھایا ۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدا ہوئے،تو مکہ کے لوگ ایسے تھے ،جیسے بچہ دودھ پینے کا محتاج ہو گیا،گویا ربوبیت کے محتاج تھے۔وحشی اور درندوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ ولہ وسلم نے ماںکی طرح دودھ پلا کر ان کی پرورش کی۔پھر رحمانیت کا پر تو کیا۔وہ سامان دئے کہ جن میں کوشش کو کوئی دخل نہ تھا۔قراان کریم جیسی نعمت اور رسول کریم ؐجیسا نمونہ عطا فرمایا۔پھر رحیمیت کا ظہور بھی دکھلایا کہ جو کوششیں کیں ان پر نتیجے مرتب کیے۔ان کے ایمانوں کو قبول فرمایا اور نصاریٰ کی طرح ضلالت میں نہ پڑنے دیا،بلکہ ثابت قدمی اور استلال عطا فرمایا۔کوشش میں یہ برکت ہوتی ہے کہ خدا ثابت قدم کر دیتا ہے ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ میںکوئی مرتد نہ ہوا۔دوسرے نبیوں کے احباب میں ہزاروں ہوتے تھے۔حضرت مسیح کے تو ایک ہی دن میں پانسو مرتد ہو گئے۔اور جن پر بڑا اعتبار اور وثوق تھا،ان میں سے تو ایک نے تیس درہم لے کر پکڑوا دیا اور دوسرے نے تین بار *** کی۔ بات دراصل یہ ہے کہ مربی کے قویٰ کا ثر ہوتا ہے۔جس قدر مربی قویٰ التاثیر اور کامل ہو گا ،ویسی ہی اس کی تربیت کا اثر مستحکم اور مضبوط ہو گا۔ نبی کریمؐ کی قدسی کا ثبوت یہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قوت قدسی کے کامل اور سب سے بڑھ کر ہونے کا ایک ثبوت ہے کہ آپ کے تربیت یافتہ گروہ میں وہ استقلال اور رسوخ تھا کہ وہ آپ کے لئے اپنی جان تک دینے سے دریغ نہ کرنے والے میدان میں ثابت ہوئے۔اور مسیح کے نقص کا یہ بد یہی ثبوت ہے کہ جو جماعت تیار کی،وہی گرفتار کرانے اور جان سے مروانے اور *** کرنے والے چابت ہوئے۔غرض رول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رحیمیت کا اثر تھا کہ صحابہ میں ثابت قدم اور استقلال تھا۔پھر مالک یوم الدین کا عملی ظہور صحابہؓ کی زندگی میں ہوا کہ خدا نے ان میں اور ان کے غیروں میںفرقان رکھ دیا۔جو معرفت اور خدا کی محبت دنیا میں ان کو دی گئی۔یہ ان کی دنیا میں جزا تھی۔اب قصہ کو تاہ کرتا ہوں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں ان صفات اربعہ کی تجلی چمکی۔