خود ہی ایک بات سے رُکے اور خود ہی کرے۔ اسلام محض اس کا نام نہیں ہے۔ اسلام تو یہ ہے کہ بکرے کی طرح سررکھ دے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرامرنا، میرا جینا، میری نماز، میری قربانیاں اللہ ہی کے لیے ہیں اور سب سے پہلے مَیں اپنی گردن رکھتا ہوں۔ یہ فخر اسلام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کواولیت کا ہے۔ نہ ابراہیم کو نہ کسی اور کو۔ یہ اسی کی طرف اشارہ ہے کنت نبیا وادم بین الماء والطین۔ اگرچہ آپؐ سب نبیوں کے بعد آئے، مگر یہ صدا کہ میر امرنا اور میرا جینا اللہ تعالیٰ کے لئے ہے، دُوسرے کے منہ سے نہیں نکلی۔
مُسلمان کی حقیقت اب دُنیا کی حالت کودیکھو کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے عمل سے یہ دکھایا کہ میرا مرنا اور جینا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اوریا اب دُنیامیں مسلمان موجود ہیں۔ کسی سے کہا جاوے کہ کیا تو مسلمان ہے؟ تو کہتاہے ۔ الحمدللہ جس کاکلمہ پڑھتا ہے، اس کی زندگی کا اُصول تو خدا کے لئے تھا، مگر یہ دُنیا کے لئے جیتا اور دُنیا ہی کے لئے مرتا ہے اس وقت تک کہ غرغرہ شروع ہوجاوے، دُنیا ہی اس کو مقصود ، محبوب اور مطلوب رہتی ہے پھر کیونکہ کہہ سکتا ہے کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہوں۔
یہ بڑی غورطلب بات ہے اس کو سرسری نہ سمجھو۔ مُسلمان بننا آسان نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اسلام کا نمونہ جب تک اپنے اندر پیدا نہ کرلو۔مطئمن نہ ہو۔
یہ صرف چھلکا ہی چھلکا ہے۔ اگر بُدوں اتباع مُسلمان کہلاتے ہو۔ نام اور چھلکے پر خوش ہوجانا دانشمند کاکام نہیں ہے۔ لکھا ہے کسی یہودی کو ایک مسلمان نے کہا کہ تو مسلمان ہوجا۔ اس نے کہا تو صرف نام پر ہی خوش نہ ہوجا۔ مَیں نے اپنے لڑکے کا نام خالد رکھا تھا اورشام سے پہلے ہی اُسے دفن کرآیا۔ پس حقیقت کوطلب کرو۔ نِرے ناموں پر راضی نہ ہوجائو۔کس قدر شرم کی بات ہے کہ انسان عظیم الشان نبی کا امتی کہلا کرکافروں کی سی زندگی بسرکرے۔ تم اپنی زندگی میں محمد رسول اللہ علیہ وسلم کا نمونہ دکھائو، وہی حالت پیدا کرو اور دیکھو اگر وہی حالت نہیں ہے، تو تم طاغوت کے پیرو ہو۔
غرض یہ بات اب بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہونا انسان کی زندگی کی غرض وغایت ہونی چاہیے،کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کا محبوب نہ ہو اور خدا کی محبت نہ ملے۔کامیابی کی زندگی بسر نہیں کر سکتا۔اور یہ امر پیدا نہیں ہوتا ،جب تک رسول اللہ کی سچی اطاعت اور متا بعت نہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھا دیا ہے کہ اسلام کیا چیز ہے؟پس تم وہ اسلام اپنے اندر پیدا کرو،تاکہ تم خدا کے محبوب بنو۔
اب میں پھر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حمد ہی سے محمد اور احمد نکلا ہے۔صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور یہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہی دو نام تھے۔گویا حمد کے دو مظہر ہوئے اور پھر الحمد للہ کے بعد اللہ تعالیٰ کی چار