کتاب مکنون اور اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پار سا طبع ہو جاو ۔ٔجب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور ادھر عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔ پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ ربنا ما خلقت ھذا باطلا سنحانک فقنا عزاب النار(آل عمران:۱۹۲) تمہارے دل سے نکلے گا۔ اس وقت سمجھ میں آجائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تاکہ طرح طرح کے علوم و فنون جو دین کو مدد دیتے ہیں۔ ظاہر ہوں۔ الہام کی روشنی خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو صرف عقل ہی کے عطیہ سے مشرف نہیں فرمایابلکہ الہام کی روشنی اور نور بھی اس کے ساتھ مرحمت فرمایا ہے ؛ان کو ان راہوں پر نہیں چلنا چاہیے۔ جن پر خشک منطقی اور فلاسفر چلانا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر لسانی قوت غالب ہوتی ہے اور روحانی قوی بہت ضعیف ہوتے ہیں۔ دیکھو قرآن شریف میں خدا تعالی اپنے بندوں کی تعریف میں اولی الایدی والابصار (ص:۴۶)فرمایا ہے کہیں اولی الاسنہ نہیں فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کو وہی پسند ہیں۔ جو بصر اور بصیرت سے خدا کے کام اور کلام کو دیکھتے ہیں اورپھر اس پر عمل کرتے ہیں اور یہ ساری باتیں بجز تزکیہ نفس اور تطہیر قوائے باطنیہ کے ہر گز حاصل نہیں ہو سکتیں ۔ فلاح دارین کے حصول کا طریق اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں فلاح دارین حاصل ہو اور لوگوں کے دلوں پر فتح پاو، تو پاکیزگی اختیار کرو۔ عقل سے کام لو اور کلام الہی کی ہدایات پر چلو۔ خود اپنے تئیں سنو اور دوسروں کو اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھاو۔ تب البتہ کامیاب ہو جاو ٔگے ۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے سخن کزدل بروں آید نشیند لا جرم بردل پس پہلے دل پیدا کرو ۔اگر دلوں پر اثر اندازی چاہتے ہو تو عملی طاقت پیدا کرو۔ کیونکہ عمل کے بغیر قولی طاقت اور لسانی قوت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ زبان سے قیل وقال کرنے والے تو لاکھوں ہیں۔ بہت سے مولوی اور علماء کہلا کر منبروں پر چڑھ کر اپنے تئیں نائب الرسول اور وارث الانبیاء قرار دے کر وعظ کرتے پھرتے ہیں کہتے ہیں کہ تکبر، غرور اور بد کاریوں سے بچو، مگر جو ان کے اپنے اعمال ہیں اور جوکرتوتیں وہ خود کرتے ہیں ۔ان کا ندازہ اس سے لو کہ ان باتوں کا اثر تمہارے دل پر کہاں تک ہوتا ہے۔ قول فعل میں مطابقت اگر اس قسم کے لوگ عملی طاقت بھی رکھتے اور کہنے سے پہلے خود کرتے تو قرآن شریف میں لم تقو لون ما لا تفعلون (الصف:۳)کہنے کی کیا ضرورت پڑتی؟یہ آیت ہی بتلاتی ہے کہ دنیا میں کہہ کر کود نہ کرنے والے بھی موجود تھے اور ہیں اور ہوں گے۔ تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر انداز