اس کی صحبت اور مجلس میں بجز استہزا اور ہنسی ٹھٹھے کے اور کوئی ذکر ہی نہ تھا۔ یہی کہتے تھے ان ھذا الشئی یراد (صٓ:۷) میاں یہ دوکانداری ہے۔ اب دیکھواوربتلائو کہ جس کو دوکاندار اورٹھگ کہاجاتا تھا، ساری دُنیا میں اسی کانُور ہے یا کسی اور کابھی۔ ابوجہل مرگیا اور اس پر *** کے سواکچھ نہ رہا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ بلند کو دیکھو کہ شب وروز بلکہ ہروقت درودپڑھا جاتا ہے اور ۹۹کروڑ مُسلمان اس کے خادم موجود ہیں۔ اگر اب ابوجہل پھر آتا،تو آکر دیکھتا کہ جسے اکیلا مکہ کی گلیوں میں پھرتا دیکھتاتھا، جس کی ایذادہی میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتا تھا۔ اس کے ساتھ جب ۹۹ کروڑ انسانوں کے مجمع کو دیکھتا حیران رہ جاتا اور یہ نظارہ ہی اس کو ہلاک کردیتا۔ یہ ہے ثبوت آپؐ کی رسالت کی سچائی کا۔ اگر اللہ تعالیٰ ساتھ نہ ہوتا، تو یہ کامیابی نہ ہوتی۔ کس قدر کوششیں اور منصوبے آپؐ کی عداوت اور مخالف کے کئے، مگرآخر ناکام اور نامراد ہونا پڑا۔ اس ابتدائی حالت میں جب چند آدمی آپؐ کے ساتھ تھے کون دیکھ سکتا تھا کہ یہ عظیم الشان انسان دُنیا میں ہوگا اور ان مخالفوں کی سازشوں سے صحیح اور سلامت بچ کرکامیاب ہوجائے گا۔ مگر یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ کی عادت اسی طرح پر ہے کہ انجام خدا کے بندوں کا ہی ہوتا ہے۔ قتل کی سازشیں ، کفر کے فتوے، مختلف قسم کی ایذائیں ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے۔ یریدون لیطفو نور اللہ بافواھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون (الصف:۹) یہ شریر کافر اپنے مُنہ کی پھونکوں سے نور اللہ کو بجھانا چاہتے ہیں۔ اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے۔ کافر بُرا مناتے رہیں۔ مُنہ کی پھُونکیں کیا ہوتی ہیں۔ یہی کسی نے ٹھگ کہہ دیا۔ کسی نے دوکاندار اور کافرو بے دین کہہ دیا۔ غرض یہ لوگ ایسی باتوں سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھادیں، مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے، نور اللہ کو بجھاتے بجھاتے خود ہی جل کر ذلیل ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لوگوں کے لشکر آسمان پر ہوتے ہیں۔ منکر اور زمینی لوگ اُن کو دیکھ نہیں سکتے۔ اگر ان کو معلوم ہو جاوے اور وہ ذرا سا بھی دیکھ پائیں تو ہیبت سے ہلاک ہوجائیں، مگر یہ لشکر نظر نہیں آسکتے۔ جب تک انسان اللہ تعالیٰ کی چادر کے نیچے نہ آئے۔ سعادتِ عظمیٰ کے حصول کی راہ مَیں پھر اصل مطلب کی طرف رجُوع کرکے کہتا ہوں کہ سعادتِ عظمیٰ کے حُصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ رکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جاوے جیسا کہ اس آیت میں صاف فرمادیا ہے۔ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ(آل عمران:۳۲) یعنی آئو میری پیروی کرو، تاکہ اللہ بھی تم کو دوست رکھے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ رسمی طور پر عبادت کرو۔ اگر حقیقت مذہب یہی ہے ، تو پھر نماز کیا چیز ہے اور روزہ کیا چیز ہے۔