لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔غرض یہ ہے کہ وہ علوم جو مدار نجات ہیں۔یقینی اور قطعی طور پر بجز اس حیات کے حاصل نہیںہو سکتے۔جو تبوسط روح القدس انسان کو ملتی ہے اور قرآن شریف کی یہ آیت صاف طور پر اور پکار کر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ حیات روحانی صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت سے ہی ملتی ہے اور وہ تمام لوگ جو بخل اور عناد کی وجہ سے نبی کرم کی متا بعت سے سر کش ہیں،وہ شیطان کے سائے کے نیچے ہیں۔اس میں اس پاک زندگی کی روح نہیں ہے۔جو بظاہر زندہ کہلاتے ہے۔لیکن مردہ ہے۔جبکہ شیطان اس کے دل پر سوار ہے۔ موت کو یاد رکھیں افسوس اس کو موت یاد نہیں ہے۔ موت کیا دُور ہے؟ جس کی بچاس برس کی عمر ہو چکی ہے۔ اگر وہ زندگی پالے گا تو دوچار برس اور پالے گا یا زیادہ سے زیادہ دس برس۔ اور آخر مرنا ہوگا۔ موت یقینی شے ہے جس سے ہرگز ہرگز کوئی بچ نہیں سکتا۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ روپیہ پیسہ کے حساب میں ایسے غلطاں پیچاں رہتے ہیں کہ کچھ حد نہیں، مگرعمر کا حساب کبھی بھی نہیں کرتے۔ بدبخت ہے وہ انسان جس کو عمر کے حساب کی طرف توجہ نہ ہو۔ سب سے ضروری اور حسا ب کے لائق جو شے ہے وہ عمر ہی توہے۔ ایس انہ ہو کہ موت آجائے اور یہ حسرت لے کر دُنیا سے کُوچ کرے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جیسے بہشتی زندگی اسی دُنیا سے شروع ہوجاتی ہے۔ جہنم کی زندگی بھی یہاں ہی سے شروع ہوجاتی ہے۔ جب انسان حسرت کے ساتھ مرتا ہے، تو بہت بڑے جہنم میں ہوتا ہے، جب دیکھتا ہے کہ اب چلا۔ ہیضہ، طاعون، محرقہ، خفقان یا کسی اور شدید مرض میںمبتلا ہوتا ہے، تو موت سے پہلے ایک موت وارد ہوجاتی ہے۔ جو دل اور رُوح کو فرسُودہ کردیتی ہے۔ اور وُہ بھی حسرت ہوتی ہے۔ بعض امراض ایسے ہیں کہ دو منٹ میں دَم لینے نہیں دیتے اور جھٹ پٹ کام تمام کردیتے ہیں۔ جس نے بھی مطالعہ کیا کہ مَیں مرنے ولا جانور ہوں وہ اس عذاب سے بچنے کی فِکر میں ہوا جو انسان کو حسرت کے رنگ میں کھا جاتا ہے۔ ہمارے عزیزوں میں سے ایک کو قولنج ہوئی۔ آخر پیشاب بند ہوکرسیاہ رنگ کی ایک قے ہوئی اور اس کے ساتھ ہی گردن لٹک گئی۔ اس وقت کہا کہ اب معلوم ہوا کہ دُنیا کچھ چیز نہیں۔ یقینا یادرکھو کہ دُنیا کوئی چیز نہیں کون کہہ سکتا ہے کہ ہم سب جو اس وقت یہاں موجود ہیں، سالِ آئندہ میں بھی ضرور ہوں گے۔ بہت سے ہمارے دوست جو پچھلے سال موجود تھے، آج نہیں ہیں۔ اُنہیں کیا معلوم تھا کہ اگلے سال ہم نہ ہوں گے۔ اسی طرح اب کون کہہ سکتا ہے کہ ہم ضرورہوں گے اور کس کو معلوم ہے کہ مرنے والوں کی فہرست میں کِس کس کانام ہے۔ پس بڑا ہی مُورکھ اور نادان ہے وہ شخص جو مرنے سے پہلے خدا سے صُلح نہیں کرتا اور جھوٹی برادری کونہیں چھوڑتا۔ بدصُحبت انسان کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں سے ایک بدصُحبت بھی ہے۔ دیکھو ابوجہل خود تو ہلاک ہوا، مگر اور بھی بہت سے لوگوں کو لے مرا جو اس کے پاس جاکر بیٹھا کرتےتھے۔