توجہ کی حد ہو گئی۔نابکار مخالفوں کی عداوت حد سے بڑھ کر بیت اللہ سے نکال دینے کا باعث ہوئی اور اس پر بھی بس نہ کی بلکہ تعاقب کیا اور اپنی طرف سے کو ئی دقیقہ تکلیف دہی اور ایذا رسان کا باقی نہ رکھا،تو آپ مدینہ تشریف لائے اور پھر حکم ہوا کہ مداخلت کی جاوے۔اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جو ش مارا اور جلال الہی نے اسم محمد کا جلوہ دکھانے کا ارادہ فرمایا جس کا ظہور مدنی زندگی میں ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیا میں آنے کی غرض و غایت تو صرف یہ تھی کہ دنیا پر اس خدا کا جلال ظاہر کریں،جو مخلوق کی نظروں اور دلوںسے پوشیدہ ہو چکا تھا اور اس کی جگہ باطل اور بیہودہ معبودوں،بتوں اور پتھروں نے لے لی تھی اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جمالی اور جلالی زندگی میں جلوہ گری فرماتا اور اپنے دست قدرت کا کرشمہ دکھاتا۔
محبوب الہی بننے کے لئے واحد راہ اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پس رسول
اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک کامل نمونہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور محبوب الہی بننے کا ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ قل ان کنتم تحبون اللہ فا تبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم(آل عمران:۳۲)یعنی تم ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب الہی بن جاؤ اور تمہارے گنا ہ بخش دئے جاویں،تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔
کیا مطلب کہ میری پیروی ایک ایسی شے ہے جو رحمت الہی سے نامید ہو نے نہیں دیتی۔گناہوں کی مغفرت کا باعث ہوتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور تمہارا یہ دعویٰ کہ ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اسی صورت میں سچا اور صحیح ثابت ہو گا کہ تم میری پیروی کرو۔
اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے کسی خود تراشیدہ طرز ریاضت ومشقت اور چپ تپ سے اللہ تعالیٰ کا محبوب اور قرب الہی کا حق دار نہیں بن سکتا ۔انوار و برکات الٰہیہ کسی پر نازل نہیں ہو سکتیں۔جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت میں نہ کھو جائے۔
اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت میں گم ہو جاوے اور آپ کی اطاعت اور پیروی میں ہر قسم کی موت اپنی جان پر وارد کر لے ۔اس کو وہ نور ایمان،محبت اور عشق دیا جاتا ہے۔جو غیر اللہ سے رہائی دیتا ہے۔اور گناہوں کی رستگاری اور نجات کو موجب ہوتا ہے۔اسی دنیا میں وہ ایک پاک زندگی پاتا ہے۔اور نفسانی جوش وجزبات کی تنگ وتاریک قبروںسے نکال دیا جاتا ہے۔اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے۔انا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی یعنی میں وہ مردوں کو اٹھا لینے والا ہوں جس کے قدموں پر