نصف رات گزرنے کے بعد خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھا کرتے تھے۔حضرت عمر یہ سنکر بہت ہی خوش ہوئے چنانچہ خانہ کعبہ میں آکر چھپ رہے۔جب تھوڑی دیر گزری تو جنگل سے لا الہ الااللہ کی آواز آتی ہوئی سنائی دی۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی کی آواز تھی۔اس آواز کو سن کر اور یہ معلوم کر کے وہ ادھر ہی کو آرہی ہے۔حضرت عمر اور بھی احتیاط کر کے چھپے اور یہ ارادہ کر لیا کہ جب سجدہ میں جائیں گے ،تو تلوار مار کر تن مبارک سر سے جدا کر دوںگا۔آپؐ نے آتے ہی نماز شروع کر دی۔پھر اس سے آگے کے واقعات حضرت عمر خود بیان کرتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سجدہ میں رو رو کر اس قدر دعائیں کی کہ مجھ پر لرزہ طاری ہونے لگا۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ بھی کہا کہ سجد لک روحی وجنانی یعنی اے میرے مولیٰ میری روح اور میرے دل نے بھی سجدہ کیا۔حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ ان دعاؤں کو سن کر جگر پاش پاش ہوتا تھا۔آخر میرے ہاتھ سے ہیبت حق کی وجہ سے تلوار گر پڑی۔میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس حالت سے سمجھ لیا کہ یہ سچاہے اور ضرور کامیاب ہو جائے گا ۔مگر نفس امارہ برا ہوتا ہے۔جب آپ نماز پڑھ کر نکلے۔میں پیچھے پیچھے ہو لیا ۔پاؤں کی آہٹ جو آپؐ کو معلوم ہوئی ۔رات اندھیری تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا کہ کون ہے؟میں نے کہا کہ عمرؓ۔آپ نے فرمایا ۔اے عمرؓ نہ تو رات کو پیچھا چھوڑتا اور نہ دن کو ۔اس وقت مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی روح کی خوشبو آئی اور میری روح نے محسوس کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم بد دعا کریں گے۔میں نے عرض کی کہ یا حضرت!بد دعا نہ کریں۔ حضرت عمر کہتے ہیں کہ وہ گھڑی میرے اسلام کی تھی۔یہاں تک کہ خدا نے مجھے توفیق دی کہ میں مسلمان ہو گیا۔ اب سوچو کہ اس تضرع اور بکا میں کیسی تلوار مخفی تھی کہ جس نے حضرت عمر جیسے انسان کو جو قتل کرنے کا معاہدہ کرنے کے لئے آتا ہے۔اپنی ادا کا شہید کر لیا۔اس توجہ اور زاری میں ایسی تلوار ہوتی ہے ،جو سیف وسنان سے بڑھ کر کام کرتی ہے۔غرض وہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مکی زندگی کاا سم احمد کے ظہور کا زمانہ تھا۔اس لئے مکہ میں عاشقانہ رنگ کا جلوہ دکھایا ۔اپنے آپ کو خاک میں ملا دیا اور ہزاروں موتیں اپنے آپ پر وارد کر لیں ۔اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس جوش ،وفا،تضرع،اور دعا وبکا کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ان موتون کے بعد وہ قوت وہ زندگی آپؐکو ملی کہ ہزاروں لاکھوں مردوں کے زندہ کرنے والے ٹھہرے اور حاشر الناس کہلائے اور ابتک اپنی قوت قدسی کے زور سے کروڑہا مُردوں کو زندہ کر رہے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔ پس اس مکی زندگی اور عاشقانہ ظہور کے بعد جو اسم احمد کی تجلی تھی۔دوسرا دور آپؐ کی جلالی زندگی اسم محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے ظہور کا معشوقانہ شان میں ہوا جبکہ مکہ والوں کی دشمی انتہا ہو چکی اور دعاؤں اور