مامورین پر ابتلاء یہ سنت اللہ ہے کہ مامور من اللہ ستائے جاتے ہیں ۔دکھ دئے جاتے ہیں۔مشکل پر مشکل ان کے سامنے آتی ہے نہ اس لئے کہ وہ ہلاک ہوجائیں بلکہ اس لئے کہ نصرت الہی کو جذب کریں۔یہی وجہ تھی کہ آپ کی مکی زندگی کا زمانہ مدنی زندگی کے بالمقابل دراز ہے۔چنانچہ مکہ میں ۱۳ برس گزرے اور مدینہ میں دس برس۔جیسا کہ اس آیت سے پایا جاتا ہے۔ہر نبی اور مامور من اللہ کے ساتھ یہی حال ہوا ہے کہ اوائل میں دکھ دیا گیا ۔مکار فریبی دکاندار اور کیا کہا گیا ہے۔کوئی برا نام نہیں ہوتا جو ان کا نہیں رکھا جاتا ۔وہ نبی اور مامور من اللہ ہر ایک بات کو برداشت کرتے ہیں اور ہر ایک دکھ کو سہہ لیتے ہیں۔لیکن جب انتہا ہو جاتی ہے تو پھر نبی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے دوسری قوت ظہور پکڑتی ہے۔اس طرح پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ہر قسم کا دکھ دیا گیا اور ہر قسم کا برا ام آپ کا رکھا گیا ۔آخر آپ کی توجہ نے زور مارا اور وہ انتہا تک پہنچی جیسا کہ استفتحو سے پایا جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوا۔وخاب کل جبار عنید تمام شریروں اور شرارتوں کے منصوبے کرنے والوں کا خاتمہ ہو گیا۔یہ توجہ مخالفوں کی شرارتوں کی انتہا پر ہوتی تھی۔کیونکہ اگر اول ہی ہو تو خاتمہ ہو جاتا ہے!!مکہ کی زندگی میںحضرت احدیت کے حضور گرنا اور چلانا نہ تھا۔اور وہ اس حالت تک پہنچ چکا تھا کہ دیکھنے والوں اور سننے والوں کے بدن پر لرزاں پڑ جاتا ہے۔مگر آخری مدنی زندگی کے جلال کو دیکھو جو شرارتوں میں سر گرم اور قتل اور اخراج کے منصوبوں میں مصروف رہتے تھے۔سب کے سب ہلاک ہوئے اورباقیوں کو اس کے حضور عاجزی اور منت کے ساتھ اپنی خطاؤں کا اقرار کر کے معافی مانگنی پڑی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دیکھو کس قدر فائدہ پہنچا۔ایک زمانہ میں یہ ایمان نہ لائے تھے اور چار برس کا توقف ہو گیا۔اللہ تعالیٰ خوب مصلحت کو سمجھتا ہے کہ اس میں کیا سر ہے۔ابو جہل نے کوشش کی کہ کوئی ا یسا شخص تلاش کیا جاوے جو رسول اللہ کو قتل کر دے۔اس وقت حضرت عمر بڑے بہادر اور دلیر مشہور تھے۔اور شوکت رکھتے تھے۔انہوں نے آپس میں مقورہ کر کے رسول اللہ کے قتل کا بیڑا اٹھایا اور معاہدہ پر حضرت عمرؓ اور ابو جہل کے دستخط ہو گئے اور قرار پایا کہ اگر عمر قتل کر آویں تو اس قدر روپیہ دیا جاوے۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ جو ایک وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوشہید کرنے جاتے ہیں۔ دوسرے وقت وہی عمر اسلام میں ہو کر خود شہید ہوتے ہیں۔وہ کیا عجیب زمانہ تھا۔غرض اس وقت یہ معاہدہ ہوا کہ میں قتل کرتا ہوں۔اس تحریر کے بعد آپ کی تلاش اور تجسس میں لگے راتوں کو پھرتے تھے کے کہیں تنہا مل جاویں تو قتل کر دوں۔ لوگوں سے دریافت کیا کہ آپ تنہا کہاں ہوتے ہیں۔لوگوں نے کہا