اسمہ احمدہ۔‘‘(الصف:۷)یعنی میرے بعد ایک نبی آئے گا۔جس کی میں بشارت دیتا ہوں اور جس کا نام احمد ہو گا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جو اللہ تعالیٰ کی حد سے زیادہ تعریف کرنے والا ہو گا۔اس لفظ سے صاف پایا جاتا ہے اور سچی بات بھی یہی ہے کہ اس کی تعریف کرتا ہے جس سے کچھ لیتا ہے اور جس قدر زیادہ لیتا ہے اسی قدر زیادہ تعریف کرتا ہے ۔اگر کسی کو ایک روپیہ دیا جاوے تو وہ اسی قدر تعریف کرے گا اور جس کو ہزار رو پیہ دیا جاوے وہ اسی انداز سے تعریف کرے گا۔غرض اس سے واضح طور پر پایا جاتا ہے کہ رسول اللہ سلی اللہ علیہ ولہ وسلم نے سب سے زیادہ خدا کا فضل پایا ۔دراصل اس نام میں ایک پیش گوئی ہے کہ یہ بہت ہی بڑے فضلوں کا وارث اور مالک ہو گا۔ محمد واحمد پھر آپ کے مبارک ناموں میں ایک سر یہ ہے کہ محمد اور حمد جو دو نام ہیں۔ان میں دو جدا جدا کمال ہیں۔محمد کا نام جلالی اور کبریائی کو چاہتا ہے۔جو نہایت درجہ تعریف کیا گیا ہے اور  اس میں ایک معشوقانہ رنگ ہے۔کیونکہ معشوق کی تعریف کی جاتی ہے۔پس اس میں جلالی رنگ ہونا ضروری ہے۔مگر احمد کا نام اپنے اندر ایک عاشقانہ رنگ رکھتا ہے،کیونکہ تعریف کرنا عاشق کا کام ہے۔کیونکہ وہ اپنے محبوب اور معشوق کی تعریف کرتا رہتا ہے۔اس لئے جیسے محمد محبوبانہ شان میں جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے اسی طرح احمد عاشقانہ شان میں ہو کر غربت اور انکساری کو چاہتا ہے۔اس میں ایک سر یہ تھا کہ آپ کی زندگی کی تقسیم دو حصوں پر کر دی گئی۔ایک تو مکی زندگی جو ۱۳ برس کے زمانے کی ہے اور دوسری مدنی زندگی ہے جو ۱۰ برس کی ہے۔مکہ کی زندگی میں اسم احمد کے نام کی تجلی تھی ۔اس وقت آپ دن رات اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وبکار اور طلب استعانت اور دعا میں گزرتی تھی۔اگر کوئی شخص آپ کی اس زندگی کے بسر اوقات پر پوری اطلاع رکھتا ہو ،تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ جو تضرع اور زاری آپ نے اس مکی زندگی میں کی تھی وہ کبھی کسی عاشق نے اپنے محبوب و معشوق کی تلاش میں کبھی نہیں کی اور نہ کر سکے گا۔پھر آپ کی تضرع اپنے لیے نہ تھی۔بلکہ یہ تضرع دنیا کی حالت کی پوری واقفیت کی وجہ سے تھی۔خدا پرستی کا نام ونشان چونکہ مٹ چکا تھا۔اور آپ کی روح اور خمیر میں اللہ تعالیٰ میں ایمان رکھ کر ایک لذت اور سرور آچکا تھا۔اور فطرتاً دنیا کو اس لذت اور محبت سے سرشار کرنا چاہتے تھے۔ادھر دنیا کی حالت کو دیکھتے تھے تو ان کی استعدادیں اور فطرتیں عجیب طرز پر واقعہ ہو چکی تھیں اور بڑے مشکلات اور مصائب کا سامنا تھا۔غرض دنیا کی اس حالت پر آپ گریہ وزاری کرتے تھے اور یہاں تک کرتے تھے کہ قریب تھا کہ جان نکل جاتی۔اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔لعلک باخع نفسک الا یکو نو ا مومنین(الشعراء:۴) یہ آپ کی متضر عانہ زندگی تھی۔اور اسم احمد کا ظہور تھا۔اس وقت آپ ایک عظیم الشان توجہ میں پڑے ہوئے تھے۔اس توجہ کو ظہور مدنی زندگی اور اسم محمد کی تجلی کے وقت ہوا ۔جیسا کہ اس آیت سے پتہ لگتا ہے واستفتحواوخاب کل جبار عنید(ابراہیم:۱۶)