کی تربیت کر کے دکھانا اور وہ تربیت بھی کوئی جسمانی نہیں بلکہ روحانی تربیت،خدا شناسی اور معرفت کی بارک سے باریک باتوں اور اسرار سے پورا واقف بنا دینا اور نری تعلیم ہی نہیں بلکہ عامل بھی بنا دینا یہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں ہے۔دنیا کے لئے اجتماع بھی ہو سکتے ہیں۔کیونکہ ان میں ذاتی مفاد اور دنیوی لالچ کی ایک تحریک ہوتی ہے۔مگر کوئی یہ بتلائے کہ محض للہ کے لئے پھر ایسے وقت میں کہ اس جلالی نام سے کل دنیا ناواقف ہو پھر ایسی حالت میںاس کا اقرار کرنا کہ دنیا کی تمام مصیبتوں کو اپنے سر اٹھا لینا ہو ۔کون کسی کے پاس آسکتا ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلانے والے کی عظیم الشان قوت جذب کی نہ ہو کہ بے اختیار ہو ہو کر دل اس کی طرف کھیچ آوے اور وہ تمام تکلیفیں اور بلائیں ان کے لئے محسوس اللذات اور مدرک الحلاوت ہو جاویں۔اب رسول اللہ اور آپ کی جماعت کی طرف غور کرو تو پھر کیسا روشن طور پر معلوم ہو گا کہ آپ ہی اس قابل تھے کہ محمد نام سے موسوم ہوتے اور اس دعویٰ کو جیسا کہ زبان سے کیا گیا تھا۔انی رسول اللہ الیکم جمیعاً اپنے عمل سے بھی کر دکھاتے؛چنانچہ وہ وقت آگیا کہ اذا جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس ید خلون فی دین اللہ افواجاً(النصر:۲،۳)اس میں اس امر کی طرف صریح اشارہ ہے کہ آپ اس وقت دنیا میںآئے جب دین اللہ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا اور عالمگیر تاریکی پھیلی ہوئی تھی اور گئے اس وقت کے جبکہ اس نظارے کو دیکھ لیا کہ ید خلون فی دین اللہ افواجاً۔ جب تک اس کو پورا نہ کیا ۔نہ تھکے ہوئے نہ ماندے ہوئے۔مخالفوں کی مخالفتیں،اعداد کی سازشیں اور منصوبے،قتل کرنے کے مشورے،قوم کی تکلیفیں آپ کے حوصلے اور ہمت کے سامنے سب ہیچ اور بے کار تھیں۔اور کوئی چیز ایسی نہ تھی جو آپ کو اپنے کام سے ایک لمحہ کے لئے بھی روک سکتی تھی!اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت تک زندہ رکھا۔جب تک کہ ٓاپ نے وہ کام نہ کر لیا جس کے واسطے آئے تھے۔یہ بھی ایک سر ہے کہ خدا کی طرف سے آنے والے جھوٹوں کی طرح نہیںآتے۔ اسی طرح پر آپ کے صدق نبوت پر آپ کی زندگی سب سے بڑا نشان ہے۔کوئی ہے جو اس پر نظر کرے؟آپ کو دنیا میں ایسے وقت پر بھیجا گیا کہ دنیا میں تاریکی چھائی ہوئی تھی اور اس وقت تک زندہ رکھا کہ الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی(المائدہ:۴)کی آواز آپ کو نہ آگئی اور فوجوں کی فوجیں اسلام میں داخل ہوتی ہوئی آپ نے نہ دیکھ لیں۔غرض اس قسم کی بہت سی وجوہ ہیں،جن سے آپ کا نام محمد رکھا گیا۔ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آپ کا ایک اور نام بھی رکھا گیا ۔وہ احمد ہے؛چنانچہ حضرت مسیح نے اس نام کی پیش گوئی کی تھی۔مبشراً برسول یاتی منن بعدی