سراپا محمد رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے واقعات پیش آمدہ کی اگر گرفت ہو اور اس بات پر پوری اطلاع ملے کہ اس وقت دنیا کی کیا حالت تھی اور آپ نے آکر کیا کیا ؟تو انسان وجد میں آکر الھم صلی علے محمد کہہ اٹھتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں۔ کہ یہ خیلای اور فرضی بات نہیں ہے۔قرآن شریف اور دنیا کی تاریخ اس امر کی پوری شہادت دیتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کیا کیا۔ورنہ وہ کیا بات تھی کہ آپ کے لئے مخصوصاً فرمایا گیا ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین اٰمنو ا صلو ا علیہ وسلموا تسلیماً(الاحزاب:۵۷)کسی دوسرے نبی کے لئے یہ صدا نہیں آئی۔پوری کامیابی پوری تعریف کے ساتھ یہی ایک انسان د نیا میں آیا کو محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہلایا۔ عادت اللہ اسی طرح پر ہے۔زمانہ ترقی کرتا ہے۔آخر وہ زمانہ آگیا جو خاتم النبین کا زمانہ تھا جو ایک ہی شخص تھا۔جس نے یہ کہا یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً(الاعراف:۱۵۹)کہنے کو تو یہ چند الفاظ ہیں۔اور ایک اندھا کہہ سکتا ہے کہ معمولی بات ہے مگر جو دل رکھتا ہے وہ سمجھتا ہے اور جو کان رکھتا ہے وہ سنتا ہے۔جو آنکھیں رکھتا ہے وہ دیکھتا ہے۔کہ یہ الفاظ معمولی الفاظ نہیں ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ معمولی لفظ تھے ،تو بتلاؤ کہ موسیٰ علیہ السلام کو یا مسیح ؑ کو یا کسی بھی نبی کو بھی یہ طاقت کیوں نہ ہوئی کہ وہ یہ لفظ کہہ دیتا۔اصل یہی ہے کہ جس کو یہ قوت یہ منصب نہیں ملا وہ کیونکر کہہ سکتا ہے ۔میں پھر کہتا ہوں کہ کسی نبی کو یہ شوکت یہ جلال نہ ملا جو ہمارے نبی کرم کو ملا ۔بکری کو اگر ہر روز گوشت کھلاؤ،تو ہو گوشت کھانے سے شیر نہ بن سکے گی۔شیر کا بچہ ہی شیر ہو گا۔پس یاد رکھو کہ یہی بات سچ ہے کہ اس نام کا مستحق اور واقعی حقدار ایک تھا۔جو محمد کہلایا۔یہ داد الہی ہے۔جس کے دل ودماغ میں چاہے ۔یہ قوتیں رکھ دیتی ہے اور خدا خوب جانتا ہے کہ ان قوتوں کا محل اور موقعہ کونسا ہے۔ہر ایک کاکام نہیں کہ اس راز کو سمجھ سکے اور ہر ایک کے منہ میں وہ زبان نہیں جو یہ کہہ سکے کہ انی رسول اللہ الیکم جمیعاً جب تک روح القدس کی خاص تائید نہ ہو یہ کام نہیں نکل سکتا۔ رسول اللہ میں وہ ساری قوتیں اور طاقتیں رکھی گئی ہیں جو محمد بنا دیتی ہیں تا کہ بالقوۃ باتیں بالفعل میں بھی آجاویں،اس لئے آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ انی رسول اللہ علیکم جمیعاً ایک قوم کے ساتھ جو مشقت کرنی پڑتی ہے ۔تو کس قدر مشکلات پیش آتی ہیں۔ایک خدمت گار شریر ہو تو اس کا درست کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔آخر تنگ اور عاجز آکر اس کو بھی نکال دیتا ہے۔لیکن وہ کس قدر قابل تعریف ہو گا جو اسے درست کرے اور پھر وہ تو بڑا ہی مرد میدان ہے جو اپنی قوم کو درست کر سکے؛حالانکہ یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔مگر وہ جو مختلف قوموں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہے۔سوچو تو سہی کہ کس قدر کامل اور زبر دست قویٰ کا مالک ہو گا ۔مختلف طبیعت کے لوگ،مختلف عمروں،مختلف ملکوں،مختلف خیالات،مختلف قویٰ کی مخلوق کو ایک ہی تعلیم کے نیچے رکھنا اور پھر ان سب