روحانی امور اور خدا پرستی کے متعلق وہ ہمیشہ ٹھوکر کھاتے رہے۔اور بے جا گستاخیوں اور شوخیوں سے کام لیتے رہے۔یہاں تک کہ لن نو من لک حتیٰ نری اللہ جھرۃً(البقرہ:۵۶)اذھب انت وربک فقاتلا انا ھہنا قاعدون(المائدہ:۲۵)جیسے کلمات کہنے اور ذرا سی غیر حاضری میں گو سالہ پرستی کرنے سے بعض نہ آئے اور بات بات میں ضد اور اعتراض سے کام لیتے ۔ان کے حالات پر پوری نظر کے بعد صاف معلوم دیتا ہے کہ وہ صرف اور صرف فرعون کی غلامی ہی سے آزاد ہونا چاہتے تھے۔خود اپنے آپ میں رہبری اور سرداری کی قوت نہ رکھتے تھے۔ اس لئے موسیٰ علیہ السلام کی بات سنتے ہی تیار ہو گئے۔چونکہ بہت تنگ آچکے تھے مرتے کیا نہ کرتے اپنی سر خروئی انہوں نے اسی میں سمجھی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نکل پڑے،لیکن آخر کار موسیٰ کی کامیابیوں میں ٹھوکر کا پتھر بنے۔غرض حضرت موسیٰ کو بہت محنت اور مشقت کی ضرورت نہ پڑی۔قوم زندان غلامی میں گر فتار تھی اور تیار تھی کہ کوئی آئے۔تو اسے قبول کر لیں۔ایسی حالت میں کئی ایک لاکھ آدمیوں نے ایک دن میں قبول کر لیا اور انہوںنے اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا کہ وہ کیسی قوم ہے اور موسیٰ کی تعلیم سے انہوں نے کیا کیا فائدہ اٹھایا ہے۔۔پس یہاں تک کہ ان کو مصر سے نکال لانا کوئی بڑا کام نہ تھا۔اصلاح کا زمانہ جب آیا اور موسیٰ نے جب کہا کہ ان کو خدا پرست قوم بنا کر وعدہ کی سر زمین میں داخل کریں ۔وہ ان کی شوخیوں اور گستاخیوں اور اندرونی بد اعمالیوں میں گزرا۔یہاںتک کہ خود حضرت موسیٰ بھی اس سر زمین میں داخل نہ ہو سکے اس لئے ان کا نام بھی محمد نہ ہو سکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی فضیلت غرض جہاں تک غور کرتے جاؤ۔یہ پتہ لگے گا کہ کوئی نبی اس مبارک نام کا مستحق نہ تھا۔یہاں تک کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا زمانہ آگیا اور وہ ایک خارستان تھا۔جس میںنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قدم رکھا اور ظلمت کی انتہا ہو چکی تھی۔میرا مذہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اس وقت تک گزر چکے تھے۔سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور ہو اصلاح کرنا چاہتے تھے۔جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کی ہر گز نہ کر سکتے تھے۔ان میں وہ دل اور قوت نہ تھی جو ہمارے نبی کو ملی تھی۔اگر کوئی یہ کہے کہ نبیوں کی معاذ اللہ سوء ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افتراء کرے گا۔میں نبیوں کی عزت اور حرمت کرنا اپنے ایمان کو جزو سمجھتا ہوں،لیکن نبی کریم کی فضیلت کل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم ہے اور میرے رگ وریشہ میں ملی ہوئی بات ہے۔یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں۔بد نصیب اور آنکھ نہ رکھنے والا مخالف جو چاہے سو کہے۔ہمارے نبی کرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہو کام کیا ہے ،جو نہ الگ الگ اور نہ مل کر کسی سے ہو سکتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔