میں نہ آتا ۔تو رام رام کہنے والوں کی طرح بہت سے جھوٹے اور بیہودہ اینٹ پتھر وغیرہ کے معبود بنائے جاتے۔اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ نبی معصوم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آیا اور بت پرستوں سے اس نے نجات دی۔یہی وہ راز ہے کہ یہ درجہ صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ان احسانوں کے معاوضہ میں ملا کر ان اللہ و ملئکۃ یصلون علے النبی یا یھا الذین امنو ا صلو اعلیہ وسلموا تسلیماً(الاحزاب:۵۷) ادھر ہندؤں نے ۳۳ کروڑ دیوتاؤں کو خدا بنا رکھا ہے۔اس وقت کی حالت سے کوئی نہیں بتلا سکتا کہ موحد فرقہ کہاں رہتا تھا۔اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے تقاضے کا پتہ چلتا ہے کہ کیونکر تاریکی کے وقت اس کی غیرت ہدایت کا تقاضا کرتی ہے۔ہندو رام رام اور عیسائی ربنا الیسوع ربنا الیسوع پکارتے تھے۔کوئی ایسا نہ تھا جوخدا کانام لیتا۔کروڑوں پردوں میں خدا تعالیٰ کا اسم جلالی مخفی تھا۔اللہ جلہ شانہ نے جب احسان کرنا چاہا تو محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پیدا کیا۔آپ کا نام محمد تھا۔جس کے معنی ہیں نہایت ہی تعریف کیا گیا۔جو باب تفصیل سے آتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی اس قدر قابل تعریف ٹھہرتا ہے۔جس قدر کام کرتا ہے۔پہلے نبی خاص قوموں کے لئے آئے تھے۔اور ایک نقص یہ تھا کہ ایک عظیم الشان اصلاح کی ضرورت نہ ہوتی تھی۔مثلاً جب حضرت مسیح علیہ السلام آئے،تو ہو صرف نبی اسرائیل ہی کی گمشدہ بھیڑوں کو اکٹھا کرنے کے واسطے آئے اور یہودیوں کے پاس اس وقت تورایت موجود تھی۔وہی توریت کی تعلیمات عملدارآمد کے لئے کافی سمجھی گئی تھی اور یہودی تورایت کے احکام اور تعلیمات کے قائل اور ا پر قائم تھے۔ہاں بعض اخلاقی کمزوریاں تھیں،جو ان میں پیدا کی گئی تھیں۔ اور یہ صاف بات ہے کہ صرف اخلاقی کمزوریوں کو دور کرنا ۔ان کے نقصانات کو بتلا دینا یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ایک معمولی درجہ کا آدمی بھی ایساکر سکتا ہے۔اور اخلاقی واعظ ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسیح کا نام محمد نہ رکھا گیا۔کیوں ؟کہ ان کی خدمت ایسی اعلیٰ درجہ کی نہ تھی اور اسی طرح پر موسیٰ علیہ السلام جب آئے گو وہ ایک شریعت لے کر آئے مگر ان کا بڑا کام نبی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلانا ہی تھا؛حالانکہ وہ قوم چار سو برس کی تلخیوں اور مصیبتوں کی وجہ سے خود اس بات پر آمادہ اور تیار تھی کہ کوئی ایسی تحریک ہو تو وہاں سے نکل کھڑے ہوں۔مادہ تیار تھا۔صرف تحریک اور محرک کی ضرورت تھی۔انسان جب کسی بیگار یا بیجا مشقت میں پکڑا جاوے،تو ہو خود اس سے نجات پانی چاہتا ہے۔ اور نکلنے کی خواہش کرتا ہے۔پس جب نبی اسرائیل فرعون کی غلامی میں پریشان ہو رہے تھے اور اندر ہی اندر وہ اس سے رہائی پانے کی فکر میں تھے۔اس وقت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر جب انہیں کہا کہ میں تم کو فرعون کی غلامی سے نجات دلاؤں گا تو وہ سب تیار ہو گئے۔بنی اسرائیل کے حالات اور واقعات کو بہ نظر غور دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کی اصل غرض موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کی کیا تھی؟بڑی باری غرض یہی تھی کہ وہ فرعون کی غلامی سے نکلیں؛چنانچہ