تعلیم قرآن کی شہادت قانون قدرت کی زبان سے ادا ہوتی ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :انہ لقرانکریم فی کتاب مکنون لا یمسہ لا المطھرون (الواقعہ:۷۸تا۸۰) بلکہ یہ سارا صحیفہ قدرت کے مضبوط صندوق میں محفوظ ہے۔ کیا مطلب کے قراان مجید ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے۔ اس کا وجود کاغذوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ ایک چھپی ہوئی کتاب میں ہے ۔جس کو صحیفہ فطرت کہتے ہیں۔ یعنی قرآن کی ساری تعلیم کی شہادت قانون قدرت کی زبان سے ہی ادا ہوتی ہے ۔اس کی تعلیم اور اس کی برکات کتھا کہانی نہیں جو مٹ جائیں ۔
ضرورت الہام
ہر ایک آدمی چونکہ عقل سے مدارج تعلیم پر نہیں ہے پہنچ سکتا ،اس لئے الہام کی ضرورت پڑتی ہے، جو تاریکی میں عقل کے لئے ایک روشن چراغ ہو کر مدد دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے فلاسفر بھی محض عقل پر بھروسہ کر کے حقیقی خدا کو نہ پا سکے ؛ چنانچہ افلاطون جیسافلاسفر بھی مرتے وقت کہنے لگا کہ میں ڈرتا ہوں۔ ایک بت پر ایک مرغا میرے لئے ذبح کرو۔اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو گی۔ افلاطون کی فلاسفی، اس کی دانائی اور دانشمندی اس کو وہ سچی سکینت اور اطمینان نہیں دے سکے جو مومنوں کو حاصل ہے۔ یہ خوب یاد رکھو کہ الہام کی ضرورت قلبی اطمینان اور دلی استقامت کے لئے اشد ضروری ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے عقل سے کام لو اور یاد رکھو کہ جو عقل سے کام لے گا۔ اسلام کا خدا اسے ضرور ہی نظر آجائے گا۔کیونکہ درختوں کے پتے پتے پر اور آسمان کے اجرام پر اس کا نام برے جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے ،لیکن بالکل ہی عقل کے تابع نہ بن جاؤ، تاکہ الہام الہیٰ کی وقعت کو نہ کھو بیٹھو۔ جس کے بغیر نہ حقیقی تسلی اور نہ اخلاق فاضلہ نصیب ہو سکتے ہیں۔ بر ہمو لوگ بھی شانتی اور سچا نور نجات کا حصہ نہیں کر سکتے ،اس لئے کہ وہ الہام کی ضرورت کے قائل نہیں۔ ایسے لوگ جو عقل کے بندے ہو کر الہام کو فضول قرار دیتے ہیں ۔میں بالکل ٹھیک کہتا ہوں کہ عقل سے بھی کام نہیں لیتے۔ قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اولو الالباب فرمایا ہے ۔پھر اس کے آگے فرمایا ہے الذین یذکرون اللہ قیاما و قعودا و علی جنوبھم (آل عمران:۱۹۲)اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو بیان کیا ہے کہ اولو الالباب اور عقل سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جلہ شانہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں۔ یہ گمان نہ کرنا چاہیے کہ عقل ودانش ایسی چیزیں ہیں جو یوں ہی حاصل ہو سکتی ہیں ۔ نہیں ۔
سچی فرست
بلکہ سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔ اس واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فرست سے ڈرو کیونکہ وہ نور الہیٰ سے دیکھتا ہے ۔صحیح فرست اور حقیقی دانش جیسا میں نے ابھی کہا۔ کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویی میسر نہ ہو ۔
اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو۔ تو عقل سے کام لو ۔فکر کرو ۔سوچو تدبر اور فکر کے لئے قرآن کریم میں بار بار تاکیدیں موجود ہیں۔