خیال اور سوچ میں نہیں آسکتی۔جو اللہ تعالٰٰ میں نہ پائی جاتی ہو،بلکہ انسان کبھی بھی ان محامد اور خوبیوں کو جو اللہ کریم میں پائی جاتی ہیں کبھی بھی شمار نہیں کر سکتا۔جس خدا نے اسلام دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور کتابوں نے جس خدا کی طرف دنیا کو دعوت دی ہے۔وہ کوئی نہ کوئی عیب اپنے اندر رکھتا ہے۔کسی کے ہاتھ نہیں ،کسی کے کان نہیں،کوئی گونگا ہے اور کوئی کچھ،غرض کوئی نہ کوئی عیب اور روگ موجود ہے۔مثلاً عیسائیوں نے جس خدا کو بنا رکھا ہے۔سوچنے والا انسان سوچ سکتا ہے کہ اگر یہ ۱۹۰۰ برس کی مدت ان کے اس خیالی ڈھکو سلہ پر نہ گزر گئی ہوتی،تو کچھ بھی ان کے ہاتھ میں نہیں تھا۔اب صرف ایک بے ہودہ بات کی کہ ۱۹۰۰ برس سے یہ مذہب چلا آتا ہے۔کوئی دلیل مسیح کی خدا ئی کی نہیںہے۔توں بچہ جو کھانے پینے کا محتاج پاخانہ اور پیشاب کی حاجتوں کا پا بند تمام انسانی حوائج کا اسیر اور محتاج ہو خدا ہو سکتا ہے؟صرف اتنی ہی بات ہے کہ بات پرانی ہو کر انہوںنے قائم مقام دلیل کے بنا لی ہے۔ جیسے ہندوؤں کے خیال میں گنگا کے پانی میں ست اور برکت خیالی طور پر رکھی ہوئی ہے؛حالانکہ وہ ایک معمولی دریا ہے۔جس میں مینڈک کچھوے اسی طرح موجود ہیں،جیسے اور دریاؤںمیں۔اور اس میں مردوں کی ہڈیاں دالی جاتی ہیں۔اب اگر ایک ہندو سے اس کی دلیل پوچھیں،تو وہ یہی کہے گا کہ میرے دل میں دلیل ہے۔بیان نہیں کر سکتا۔ایسا ہی نادان آریوں نے جو پرمیشر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے،وہ ایک مستری اور کاریگر سے بڑھ کر نہیں،کیونکہ بجز جوڑنے جاڑنے کے خالقیت کے اعلیٰ جوہر سے وہ بے بہرہ ہیں۔روح اور ذات عالم پر اس کا کوئی تصرف نہیں۔کیونکہ اس نے ان کوپیدا ہی نہیں کیا۔وہ کبھی اپنے بندوں کو نجات نہیں دے سکتا۔کیونکہ پھر سارا کارخانہ ہی بگڑتا ہے۔اور ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔وہ اپنے کسی مخلص بندے کی دعا ہی نہیں س سکتا اور نہ اپنے فضل سے کسی کو کچھ دے سکتا ہے کیونکہ جو کچھ وہ کسی کو دیتا ہے ،وہ اس کے ہی کرموں کا پھل ہوتا ہے۔غرض ہر قوم نے اور کتاب نے جو خدا پیش کیا ہے اس کو دیکھ کر شرم آجاتی ہے۔یہ فضیلت اور فخر اسلام کو ہی ہے۔کہ اس کو ماننے والا کبھی شرمندہ نہیںہوسکتا۔اس نے کامل خدا کا پلّہ پکڑا ہے اور اکمل ہی کے حضور جائے گا۔‘‘؎۱
محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت یہ محض اللہ تعالیٰ کاحسان اور فضل ہے۔پھر پیغمبر خدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت سے عظیم الشان احسان فرمایا۔اگر آپ کا وجود باوجود دنیا