پیغمبر الوہیت کے مظہراور خدا نما ہوتے ہیں۔پھر سچا مسلمان اور معتقد وہ ہوتا ہے،جو پیغمبروں کا مظہر بنے۔صحابہؓ کرام نے اس راز کو خوب سمجھ لیا تھا اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت میں ایسے گم ہوئے اور کھو گئے کہ ان کے وجود میں کچھ اور باقی ہی نہیں رہا تھا۔جو کوئی ان کو دیکھتا تھا ا کو محویت کے عالم میں دیکھتا تھا۔پس یاد رکھو کہ اس زمانہ میں بھی جب تک وہ محویت اور وہ اطاعت میں گمشدگی پیدا نہ ہو گی جو صحابہؓ کرام میں پیدا ہوئی تھی۔مریدوں معتقدوں میں داخل ہونے کا دعویٰ تب ہی سچا اور بجا ہو گا۔یہ بات اچھی طرح اپنے ذہن میں نشین کر لوکہ جب تک یہ نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم میں سکونت کرے اور خدا تعالیٰ کے آثار تم میں ظاہر ہوں۔اس وقت تک شیطانی حکومت کا عمل دخل موجود ہے۔ شیطان،جھوٹ ،ظلم،جزبات،خون۔طول امل۔ریا اور تکبر کی طرف بلاتاہے۔اور دعوت کرتا ہے۔اس کے بالمقابل اخلاق فاضلہ،صبر،محویت،فنا فی اللہ،اخلاص،ایما ،فلاح یہ اللہ تعالٰی کی دعوتیں ہیں۔انان ان دونوں تجاذب میں پڑا ہوا ہے۔پھر جس کی فطرت نیک ہے اور سعادت کا مادہ اس میں رکھا ہوا ہے۔وہ شیطان کی ہزار دعوتوں اور جز بات کے ہوتے ہوئے بھی اس فطرت رشید سعادت اور سلامت روی کے مادہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتا ہے اور خدا ہی میں اپنی راحت تسلی اور اطمینان کو پاتا ہے۔ ایمان کے نشانات مگر ہر چیز کے لئے نشانات ضرور ہوتے ہیں۔جب تک اس میں وہ نشان نہ پائے جاویں،وہ معتبر نہیں ہو سکتی۔دیکھو دواؤں کا طبیب شناخت کر لیتا ہے ۔بنفشہ،خیار شنبر تربد میں اگر وہ صفات نہ پائے جاویں جو ایک بڑے تجربے کے بعد ان میں متحقق ہوئے ہیں۔تو طبیب ان کو ردی کی طرح پھینک دیتا ہے۔اسی طرح ایمان کے نشانات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے۔یہ سچی بات ہے کہ جب ایمان انسان کے اندر داخل ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت یعنی جلال تقدس کبریائی قدرت اور سب سے بڑھ کر لا الہ الا اللہ کا حقیقی مفہوم داخل ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے اندر سکونت اختیار کرتا ہے اور شیطانی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے یا یہ کہو کہ آسمانی پیدائش کا وہ پہلا دن ہوتا ہے۔جب شیطانی زندگی پر موت وارد ہوتی ہے اور روحانی زندگیے بچے کا تولد ہوتا ہے۔ اسلام کا کامل خدا اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ میں اسی تولد کا ذکر فرمایا ہے۔الحمد للہ رب العالمیں ۔ملک یوم الدیں (الفاتحہ:۲تا۴) یہ چاروں صفات اللہ تعالیٰ کی بیان کی گئی ہیں۔یعنی وہ خدا جس میں تمام محامد پائے جاتے ہیں۔کوئی خوبی