طرح خدا کے حکم پاکر ذبح ہو گئے اور کچھ پرواہ نہیں کی کہ بیوی بچوں کا کیا حال ہو گا۔ان کو کچھ ایسی شراب محبت پلائی کہ لا پرواہ ہو کر جانیں دے دیں۔یہ تصرف اس نظارہ کے وقت معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت کی۔
بیعت کے مغز کو اختیار کرو یہ مت خیال کرو کہ صرف بیعت کر لینے سے ہی خدا راضی ہو جاتا ہے۔یہ تو صرف پوست ہے۔مغز تو اس کے اندر ہے۔ اکثر قانون قدرت یہی ہے کہ ایک چھلکا ہوتا ہے اور مغز اس کے اندر ہوتا ہے۔چھلکا کوئی کام کی چیز نہیں ہے۔مغز ہی لیا جاتا ہے۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں مغز رہتا ہی نہیں اور مرغی کے ہوائی انڈں کی طرح جن میں نہ زردی ہوتی ہے اور نہ سفیدی جو کسی کام نہیں آسکتے اور ردی کی طرح پھینک دیے جاتے ہیں۔ہاںایک دو منٹ تک کسی بچے کے کھیل کا ذریعہ ہو تو ہو۔
اسی طرح پر وہ انسان جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اس کو ٹٹولنا چاہیے کہ کیا میں چھلکا ہی ہوں یا مغز؟جب تک مغز پیدا نہ ہو۔ایمان محبت اطاعت بیعت اعتقاد مریدی اور اسلام کا مدعی سچامدعی نہیں ہے۔یاد رکھو کہ یہ سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مغز کے سوا چھلکے کی کوئی بھی قیمت نہیں۔خوب یاد رکھو کہ معلوم نہیں ،موت کس وقت آجائے،لیکن یہ یقینی بات ہے کہ موت ضرور ہے۔پس نرے دعویٰ پر ہر گز کفایت نہ کرو اور خوش نہ ہو جاو۔وہ ہر گز ہر گز فائدہ رساں چیز نہیں ۔جب تک انسان اپنے آپ پر بہت سی موتیں وار نہ کر ے اور بہت سی تبدیلیوں اور انقلابات میں سے ہو کر نہ نکلے۔وہ انسانیت کے اصل مقصد کو نہیں پا سکتا۔
انسان کی حقیقت انسان اصل میں اُنسان سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی اُنس ہوں۔ایک اللہ تعالیٰ سے اور دوسرا نبی نوع انسان کی ہمدردیسے جب یہ دونوں انس اس میں پیدا ہو جاویں۔اس وقت انسان کہلاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو انسان کا مغز کہلاتی ہے اور اسی مقام پر انسان اولو الاباب کہلاتا ہے۔جب تک یہ نہیں کچھ بھی نہیں۔ہزار دعویٰ کر دکھاؤ،مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک،اس کے نبی اور اس کے فرشتوں کے نزدیک ہیچ ہے۔
اسوۂ انبیاء علیہم السلام پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تمام انسان نمونہ کے محتاج ہیں اور وہ نمونہ انبیاء علیہم السلام لکا وجود ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس بات پرقادر تھا کہ درختوں پر کلام الہی لکھاتا،مگر اس نے جو پیغمبروں کو بھیجا اور ان کی معرفت کلام الہی نازل فرمایا۔اس میں یہی سر تھا کہ تا انسان جلوۂالوہیت کو دیکھے،جو پیغمبروں میں ہو کرظاہر ہوتا ہے۔