ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ تھا،جس کی فطرت میں سعادت کا تیل اور بتی پہلے سے موجود تھے۔اس لئے رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پاک تعلیم نے اس کو فی الفور متاثر کر کے روشن کر دیا۔اس نے آپ سے کوئی بحث نہیں کی۔کوئی نشان اور معجزہ نہ مانگا۔معاً سن کر صرف اتنا ہی پوچھا کہ کیا آپ نبوت کا دعویٰ کرتے ہین۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ہاں،تو بول اٹھے کہ آپ گواہ رہیں کہ میں سب سے پہلے یمان لاتا ہوں۔ حسن ظن اور صبر یہ تجربہ کیا گیا ہے کہ سوال کرنے والے بہت کم ہدایت پاتے ہیں۔ہان حسن ظن اور صبر سے کام لینے والے ہدایت سے پورے طور پر حصہ لیتے ہیں۔اس کا نمونہ ابو بکرؓ اور ابو جہل دونوں موجود ہیں۔ابو بکرؓ نے جھگڑا نہیں کیا اور نشان نہ مانگے۔مگر اس کو وہ دیا گیا جو نشان مانگنے والوں کو نہ دیا گیا۔اس نے نشان پر نشان دیکھے اور خود ایک عظیم الشان نشان بنا۔ابو جہل نے حجت کی اور مخالفت اور جہالت سے بعض نہ آیا۔اس نے نشان پر نشان دیکھے مگر دیکھ نہ سکا۔آخر خود دوسروں کے لئے نشان ہو کر مخالفت ہی میں ہلاک ہوا۔اس سے ساف پتہ لگتا ہے کہ جس کی فظرت میں نور ایمان ہے۔انہین زیادہ گوئی کی ضروت نہیں۔وہ ایک ہی بات سے مطلب کو پہنچ جاتے ہیں۔ان کے دل میں ایک روشنی ہوتی ہے۔وہ معاً آواز کے سنتے ہی روشن ہو جاتے ہیں اور وہ الہی قوت جو ان کے اندر ہوتی ہے،اس کی آواز کو سن کر جوش میں آجاتی ہے اور نشو ونما پاتی ہے۔جن میں یہ قوت نہیں رہتی۔وہ محروم رہ کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔یہی طریق شروع سے چلا آیا ہے۔اب ہر شخص کو خوف کرنا چاہیے کہ اگر کسی زمانہ میں اصلاح کے لئے مامور پیدا ہوتا ہے تو جو لوگ اپنے اندر اس مامور کے لئے قبولیت اور ایمان کا رنگ پاتے ہیں،وہ مارک ہیں۔لیکن جو اپنے دل میں قبض پاتا ہے اور دل ماننے کی طرف رجوع نہیں کرتا ۔اس کو ڈرن اچاہیے کہ یہ انجام بد کے آثار ہیں اور محرومی کے اسباب۔  یقیناً سمجھ لو۔اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ جو حق کے قرائن اور دلائل دیکھ کر نہیں مانتا اور حسن ظن اور صبر سے کام نہیں لیتا اور تلاش رد میں رہتا ہے۔عمدہ سے عمدہ نشان اورت قویٰ سے قویٰ دلائل اس کے پاس آتے ہیں مگر وہ ان کو دیکھ کر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا ،بلکہ رد کی فکر میں لگ جاتا ہے۔تو اس کو ڈرناچاہیے کہ اشقیاء والی عادت ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے اس ماعت نے کبھی بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔جب انہوں نے اللہ کا پیغام سنا اور مامور من اللہ کی آواز ان کے کان میں پہنچی۔وہ مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور فکر معکوس اور بخل اور بے جا عداوت کی وجہ سے اس کی تردید کی فکر میں لگ گئے۔پھر اسی پر بس نہیں کیا۔انسان چونکہ ترقی کرتا ہے۔دوستی ہو یا دشمنی۔آخر بڑے بڑے مقابلوں اورناپاک منصوبوں تک نوبت پہنچ کر ہلاکت کی گھڑی آجاتی ہے۔ ایسا ہی حال پیغمبر خدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں ہوا۔ایک گروہ نے ایمان میں وہ ترقی کی کہ بکریوں کی