کے منبر پر چڑھ کر نصیحت کریں،انہیں تب بھی کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ یہی وہ سر ہے کہ ہر نبی اور مامور کے وقت دو فرقے ہوتے ہیں۔ایک وہ ہیں جن کا نام سعید رکھاہے اور دوسرا وہ جو شقی کہلاتا ہے۔دونوں فرقے وعظ اور نصیحت کے لحاظ سے یکساں طور پر انبیاء علیہم السلام کے سامنے تھے اور اس پاک گروہ نے کبھی بھی کسی کے ساتھ بخل نہیں کیا۔پورے طور پر حق نصیحت ادا کیا۔جیسے سعیدوں کے لئے ویسے اشقیاء کے لئے۔مگر سعید قوم کان رکھتی تھی جس سے اس نے سنا۔آنکھیں رکھتی تھی جس سے سمجھا،مگر اشقیاء کا گروہ ایسی قوم تھی ۔جس کے کان نہ تھے۔جو سنتی اور آنکھیں نہ تھیں،جس سے دیکتی نہ دل تھے جس سے سمجھتی اسی لئے وہ محروم رہی۔ مکہ کی مٹی ایک ہی تھی۔جس سے ابوبکر ؓ اور ابو جہل پیدا ہوئے ۔مکہ وہی مکہ ہے جہاں اب کروڑوں انسان ہر طبقہ اور ہر درجہ کے دنیا کے ہر حصہ سے جمع ہوتے ہیں۔اسی سر زمین سے یہ دونوں انسان پیدا ہوئے۔جن میں سے اول الذکر اپنی سعادت اور رشد کی وجہ سے ہدایت پا کر صدیقوں کا مال پا گیا اور دوسرا شرارت،جہالت بے جا عداوت اور حق کی مخالفت میںشہرت یافتہ ہے۔ یاد رکھو کمال دو ہی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک رحمانی،دوسرا شیطانی۔رحمانی کمال کے آدمی آسمان پر ایک شہرت اور عزت پاتے ہیں۔اسی طرح شیطانی کمال کے آدمی شیاطین کی ذریت میں شہرت رکھتے ہیں۔ غرض ایک ہی جگہ دونوں تھے ۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کسی سے کچھ بھی فرق نہیں کیا۔جو کچھ حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ۔وہ سب کا سب یکساں طور پر سب کو پہنچا دیا ۔مگر بد نصیب بد قسمت محروم رہ گئے اور سعید ہدایت پا کر کامل ہو گئے۔ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے بیسیوں نشان دیکھے۔انوار وبر کات الہٰیہ کو مشاہدہ کیا،مگر ان کو کچگ بھی فائدہ نہ ہوا، اب ڈرنے کا مقام ہے کہ وہ کیا چیز تھی جس نے ابو جہل کو محروم رکھا۔اس نے ایک عظیم الشان نبی کا زمانہ پایا جس کے لئے نبی ترستے گئے تھے۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخر تک ہر ایک کی تمنا تھی،مگر انہیں وہ زمانہ نہ ملا۔اس بد بخت نے وہ زمانہ پایا ۔جو تمام زمانوں سے مبارک تھا۔مگر کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔اس سے صاف ظاہر ہے اور خوف کا مقام ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو دیکھنے والی آنکھ نہ ہو اس کے سننے والے کان نہ ہو اور اس کا سمجھنے والا دل نہ ہو۔کوئی شخص کسی نبی اور مامور کی باتوں سے کچھ بھی فائدہ نہین اٹھا سکتا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اسل یہی ہے کہ سرشت میں دو حصے ہوتے ہیں۔ایک وہ لوگ ہیں جن کے قویٰ عمدہ ہوتے ہیں اور وہ سعادت اور رشد کے پا جانے کے لئے استعدادوں سے یوں بھرے ہوتے ہیں۔جیسے ایک عطر کا شیشہ لبریز ہوتا ہے۔تیل اور بتی سب کچھ موجود ہو تا ہے۔صرف ایک ذرا سی ااگ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ایک ادنیٰ سی تحریک اور رگڑ سے روشن ہوا ٹھتی ہے۔