معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا کا ہاتھ ہے جو اس کو تھامے ہوئے ہے۔
رسول اللہ کا کس قدر عظیم الشان معجزہ ہے کہ ہر طرف سے مخالفت ہوتی ہے،مگر آپ ہر میدا ن میں کامیاب ہی ہوتے ہیں۔صحابہ کے لئے یہ کیسی دل خوش کرنے والی بات تھی۔جب وہ اس نظارے کودیکھتے تھے۔
اسلام کیا ہے؟بہت سی جانوں کا چندہ ہے۔ہمارے آباو اجدا چندہ ہی میں آئے ہیں۔اب اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ وہ اسلام کو کل ملتوں پر غالب کرے۔اس نے مجھے اسی مطلب کے لئے بھیجا ہے اور اسی طرح بھیجا ہے۔جس طرح پہلے مامور آتے رہے۔پس میری مخالفت میں بھی بہت سی باتیں سنیں گے اور بہت قسم کے منصوبے پائیں گے۔لیکن میں آپ کو نصیحتاً للہ کہتا ہوںکہ آپ سوچیں اور غور کریں کہ یہ مخالفتیں مجھے تھکا سکتی ہیں۔یا ان کا کچھ بھی اثر مجھ پر ہوا ہے؟ہر گز نہیں۔خدا تعالیٰ کا پوشیدہ ہاتھ ہے جو میرے ساتھ کام کرتا ہے؛ورنہ میں کیا اور میری ہستی کیا؟مجھے شہرت طلب کہا جاتا ہے۔لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ اس فرض ادا کرنے میں مجھے کس قدر گالیاں سننی پڑتی ہیں،مگر ان گالیوں کو جو دیتے ہیں اور ان تکلیفوں کو جو دیتے ہیں اور ان تکلیفوں کو جو پہنچاتے ہیں۔ایک لحظہ کے لئے بھی پرواہ یا خیال نہیں کرتا اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے معلوم نہیں ہوتا میررا خدا میرے ساتھ ہے۔ اور اگر میں خدا کی طرف سے آیا نہ ہوتا تو میری یہ مخالفت بھی ہر گز نہ ہوتی۔آپ کا اس قدر دور دراز سے سفر اختیار کر کے پھر تکالیف راہ برداشت کر کے آنا اللہ تعالیٰ کے حضور ایک اجر رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور توفیق دے کہ آپ اس سلسلہ کی طرف توجہ کر سکیں جو خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔آمین۔‘‘؎۱
۲۸؍دسمبر۱۹۰۰ء
سعید اور شقی بعد نماز جمعہ عام مجمع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مفصلہ ذیل تقریر فرمائی:
’’دیکھو،میں محض اللہ مختصر طور پر چند باتیں سناتا ہوں ۔ میری طبیت اچھی نہیں اور زیادہ باتوں کی حاجت نہیںہے۔کیونکہ وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے نیک اور پاک فطرت پیدا کی ہے اور جن کی استعدادیں عمدہ ہیں۔وہ بہت باتوں کے محتاج نہیں ہوتے اور ایک اشارہ کی اصل مقصد اور مطلب کو سمجھ لیتے اور بات کو پا لیتے ہیں۔ہاں جو لوگ اچھی فطرت اور عمدہ استعداد نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور قدرت پر اعتقاد نہیں ہے،وہ تو اپنی اغراض کی پیروی کرتے ہیں۔وہ ایسی پستی کی حالت میںپڑے ہوئے ہیں کہ اگر سب انبیاء علیہم السلام اکٹھے ہو کر ایک ہی وعظ