یہ سلسلہ منہاج نبوت پر قائم ہوا ہے میں دیکھتا ہوںکہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت جو بنیاد ایک سلسلہ آسمانی پر رکھی ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیںہے۔یہ  سلسلہ بالکل منہاج نبوت پر قائم ہوا ہے۔اس کا پتہ اس طرز پر لگ سکتا ہے ،جس طرح پر انبیاٗ علیہم السلام کے سلسلوں کی حقانیت معلوم ہوئی ۔اور وہ راہ ہے صحبت میں صبر اور حسن ظن سے رہنے کی۔مخالفوں کو چونکہ اسباب نہیں ملتے اس لئے وہ صحیح رائے اور یقینی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔انسان جب تک ان طرح طرح کے خیالات اور راوں کے پروں کو چیر کر نہیں نکل آتا،اس کو سچی معرفت قوت اور مردانگی نہیں مل سکتی۔خوش قسمت وہی انسان ہے جو ایسے مردان خدا کے پاس رہ کر(جن کو اللہ تعالیٰ اپنے وقت پر بھیجتا ہے)اس غرض اور مقصد کوحاصل کرے۔جس کے لئے وہ آتے ہیں۔ایسے لوگ اگرچہ تھوڑے ہوتے ہیں،لیکن ہوتے ضرور ہیں۔وقلیل من عبادی الشکور(سبا:۱۴)اگرتھوڑے نہ ہوتے تو پھر بے قدری ہو جاتی۔یہی وجہ ہے کہ سونا چاندی لوہے اور ٹین کی طرح عام نہیں ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مخالف بھی ہوں کیونکہ سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ہر شخص جو خدا کی طرف قدم اٹھاتا ہے،اس کے لئے امتحان ضروری رکھا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔احسب الناس ان یترکوا ان یقولو امنا و ھم لا یفتنون(العنکبوت:۳)امتحان خدا کی عادت ہے۔یہ خیال نہ کرو کہ عالم الغیب خدا کوامتحان کی کیا ضرورت ہے؟یہ اپنی سمجھ کی غلطی ہے کہ اللہ تعالیٰ امتحان کا محتاج نہیں ہے۔انسان خود محتاج ہے کہ تا کہ اس کو اپنے حالات کی اطلاع ہو اور اپنے ایمان کی حقیقت کھلے۔مخالفانہ رائے سن کر مغلوب ہو جاوے تو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ قوت نہیں ہے۔جس قدر علوم فنون دنیا میں ہیں بدوں امتحان ان کو سمجھ نہیں سکتا ۔خدا کا امتحان یہی ہے کہ انسان سمجھ جاوے کہ میری حالت کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مامور من اللہ کے دشمن ضرور ہوتے ہیں جو ان کو تکلیفیں اور ازیتیں دیتے ہیں۔توہین کرتے ہیں۔ایسے وقت میں سعید الفطرت اپنی روشن ضمیری سے ان کی صداقت کو پا لیتے ہیں۔پس ماموروں کے مخالفوں کا وجود بھی اس لئے ضروری ہے۔جیسے پھولوں کے ساتھ کانٹے کا وجود ہے۔تریاق بھی ہیں تو زہریں بھی ہیں۔کوئی ہم کو کسی نبی کے زمانہ کا پتہ دے۔جس کے مخالف نہ ہوئے ہوں اور جنھوں نے اس کو دکاندار ،ٹھگ،جھوٹا مفتری نہ کہا ہوا ہو۔موسیٰ علیہ السلام کے اوپر بھی افترا ء کر دیا۔یہاں تک کہ ایک پلید نے تو زنا کا اتہام لگا دیا اور ایک عورت کو پیش کر دیا۔غرض ان پر ہر قسم کے افتراء کیے جاتے رہے تا کہ لوگ آزمانئے جاویں۔اور یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ خدا کے لگائے ہوئے پودے ان نابکاروںکی پھونک سے معدوم کیے جاویں۔یہی ایک نشان اور تمیز ہوتی ہے ان کے خدا کی طرف سے ہونے کی کہ مخالف کوشش کرتے ہیں کہ وہ نابود ہو جاویں اور وہ بڑھتے اور پھولتے ہیں۔ہاں جو خدا کی طرف سے نہ ہو۔وہ آخر معدوم اور نیست و نابود ہو جاتا ہے۔لیکن جس کو خدا نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے،وہ کسی کی کوشش سے نابود نہیں ہو سکتا ۔وہ کاٹنا چاہتے ہیں اور یہ بڑھتا ہے۔اس سے صاف