تمہارے لئے اس دنیا میںجہنم موجود ہے۔  ایسی حالت میں قریباً ہر شہرمیں مسلمانوں کی بہتری کے لئے انجمنیں اور کانفرنسیں ہوتی ہیں۔لیکن کسی ہمدرد مسلمان کے منہ سے یہ نہیں نکلتاکہ قرآن کو اپنا امام بناؤ۔اس پر عمل کرو۔اگر کہتے ہیں تو بس یہی کہتے ہیں کہ انگریزی پڑھو،کالج بناؤ،بیرسٹربنو۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ خدا پر ایمان نہیں رہا۔حاذق طبیب بھی اگر دس دن کے بعد دوا فائدہ نہ کرے تو اپنے علاج سے رجوع کر لیتے ہیں۔یہاں ناکامی پر ناکامی ہوتی جاتی ہے اور اس پر رجوع نہیں کرتے۔اگر خدا نہیں ہے تو اس کو چھور کر بے شک ترقی کر لیں گے ۔لیکن جب کہ خدا ہے اور ضرور ہے ۔پھر اس کو چھوڑ کر کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے اس کیبے عزتی کر کے اس کی کتاب کی بے ادبی کر کہ کہتے ہیں کہ کامیاب ہوں اور قوم بن جاوے کبھی نہیں۔ ہماری رائے تو یہی ہے کہ جس کو آنکھیں دیکھتی ہیں۔ترقی کی ایک ہی راہ ہے کہ خدا کو پہچانیں اور اس پر زندہ ایمان پیدا کریں۔اگر ہم ان باتوں کو ان دنیا پرستوں کی مجلس میں بیان کریں،تو ہو ہنسی میں اڑا دیں گے،مگر ہم کو رحم آتا ہے کہ افسوس یہ لوگ اس کو نہیں دیکھ سکتے۔جو ہم دیکھتے ہیں۔آپ کو چونکہ خدا تعالیٰ نے موقعہ دیا ہے کہ اس قدر دور دراز کا سفر اختیار کر کے اور راستہ کی تکلیف اٹھا کر آئے ہیں۔میںسمجھتا ہوں کہ اگر ایمانی قوت کی تحریک نہ ہوتی تو اس قدر تکلیف برداشت نہ کرتے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزا دے اور اس قوت کی ترقی دے تا کہ آپ کو وہ آنکھ عطا ہو کہ ٓاپ اس روشنی اور نور کو دیکھ سکیں جو اس زمانہ میںاللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دنیا پر نازل کیا ہے۔ بعض اوقات انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ کہیں جاتا ہے اور پھر جلد چلا جاتا ہے،مگر اس کے بعد اس کی روح میں دوسرے وقت اضطراب ہوتا ہے کہ کیوں چلا آیا۔ہمارے دوست آتے ہیں اور اپنی بعض مجبوریوں کی وجہ سے جلد چلے جاتے ہیں،لیکن پیچھے ان کو حسرت ہوتی ہے کہ کیوں جلد واپس آئے۔ [یہاں مولوی سید مہدی حسین صاحب نے کہا کہ میرا بھی یقیناً یہی حال ہو گا۔اگر میں نواب محسن الملک صاحب اور دوسرے دوستوں کو تار نہ دے چکا ہوتا۔تو میں اور ٹھہرتا] بہر حال میں نہیں چاہتا کہ آپ تخلف وعدہ کریں اور جب کہ ان کو اطلاع دے چکے ہیں،تو ضرور جانا چاہیے،لیکن میں امید کرتا ہوں کہ آپ پھر آئیں گے۔میں محض للہ اور نصیحتاً کہتا ہوں کہ آپ ایک دو ہفتہ تک کم از کم کسی دوسرے موقعہ پر یہاں رہ جائیں گے تو ااپ کو بہت فائدہ ہو گا۔آپ وہ باتیں سنیں گے،جس کے سنانے کے لئے مجھے خدا نے بھیجا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت کافر اس وقت یہی رائے لگاتے تھے۔ان ھذا لشی یراد(ص:۷)میں یہاںتو دکانداری ہے۔مخالف جس کو صحبت نصیب نہیں ہوتی۔اس کو صحیح رائے نہیں ملتی اور دور سے رائے لگانا صحیح نہیں۔کیونکہ جب تک وہ پاس نہیںآتا اور حالات پر اطلاع نہیں پاتا،کیونکر صحیح روئے حاصل کر سکتا ہے۔