قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کرتے ہیں۔اور ا ہی کی اطاعت اور پیروی میں دن رات کوشاں تھے۔ان لوگوں کی پیروی کسی رسم و رواج تک میں بھی نہ کرتے تھے،جن کو کفار کہتے تھے۔جب تک اسلام کو اس حالت میں رہا وہ زمانہ اقبال اور عروج کا رہا۔اس میں سر یہ تھا۔ ع خدا داری چہ غم داری مسلمانوں کی فتوحات اور کامیابیون کی کلید بھی ایمان تھا۔صلاح الدین کے مقابلہ پر کس قدر ہجوم ہوا تھا۔لیکن آخر اس پر کوئی قابو نہ پا سکا۔اس کی نیت اسلام کی خدمت تھی۔غرض ایک مدت تک ایسا ہی رہا۔جب بادشاہوں نے فسق وفجور اختیار کیا ۔پھر اللہ تعالی ٰکا غضب ٹوٹ پڑا اور رفتہ رفتہ ایسا زوال آیا جس کو تم اب دیکھ رہے ہو۔اب اس مرض کی جو تشخیص کی جاتی ہے،ہم اس کے مخالف ہیں۔ہمارے نزدیک اس تشخیص پر جو علاج کیا جاوے گا،وہ زیادہ خطر ناک اور مضر ثابت ہو گا۔جب تک مسلمانوں کا رجوع قرآن شریف کی طرف نہ ہو گا۔ان میں وہ ایمان پیدا نہ ہو گا ۔یہ تندرست نہ ہوں گے۔عزت اور عراج اسی راہ سے آئے گا جس راہ سے پہلے آیا۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں میرا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مسلمان سست ہو جاویں۔اسلام کسی کو سست نہیں بناتا ۔اپنی تجارتوںاور ملازمتوں میں بھی مصروف ہوں۔مگر میں  یہ ہر گز پسند نہیں کرتا کہ خدا کے لئے ان کا کوئی بھی وقت خالی نہ ہو۔ہاں تجارت کے وقت پر تجارت کریں اور اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کو اس وقت بھی مد نظر رکھیں،تاکہ وہ تجارت بھی ان کی عبادت کا رنگ اختیار کرے۔نمازوں کے وقت پر نمازوں کو نہ چھوڑیں۔ہر معاملہ میں کوئی ہو دین کو مقدم کریں۔دنیا مقصود بالذات نہ ہو۔اصل مقصود دین ہو ۔پھر دنیا کے کام بھی دین کے کام ہی ہوں گے۔صحابہؓ کرام کو دیکھو کہ انہوں نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی خدا کو نہیں چھوڑا۔تلوار اور لڑائی کا وقت ایسا خطر ناک ہوتا ہے کہ محض اس کے تصور ہی سے انسان گھبرا اٹھتا ہے۔وہ وقت جب کہ جوش اور غضب کا وقت ہوتا ہے۔ایسی حالت میں بھی وہ خدا سے غافل نہیں ہوئے۔نمازوں کو نہیں چھوڑا۔دعاؤں سے کام لیا۔اب یہ بد قسمتی ہے کہ یوں تو ہر طرح سے زور لگاتے ہیں۔بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں۔جلسے کرتے ہیں کہ مسلمان ترقیاں کریں۔مگر خدا سے ایسے غافل ہوتے ہیں کہ بھول کر بھی اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔پھر ایسی حالت میںکیا امید ہو سکتی ہے کہ ان کی کوششیں نتیجہ خیز ہوں جب کہ وہ سب کی سب دنیا ہی کے لئے ہیں۔یاد رکھو جب تک لا الہ الااللہ دل و جگر میں سرایت نہ کرے اور وجود کے ذرہ ذرہ پر اسلام کی روشنی اور حکومت نہ ہو۔کبھی ترقی نہ ہو گی۔اگر تم مغربی قوموں کا نمونہ پیش کرو کہ وہ ترقیاں کر رہی ہیں۔ان کے لئے اور معاملہ ہے۔تم کو کتاب دی گئی ہے۔تم پر حجت ہو گئی ہے۔ان کے لئے الگ معاملہ اور مواخذہ کا دن ہے۔تم اگر کتاب اللہ کو چھوڑو گے۔تو