پھر تو رائے کس طرح دیتا ہے۔اس طرح پر جو خدا کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ نہیں ہے۔ان کا کیا حق ہے کہ وہ رائے دیں جبکہ الہیات کا علم ہی ان کو نہیں ہے اور انہوں نے کبھی مجاہدہ ہی نہیں کیا ہے۔ ہاں ان کو یہ کہنے کا حق ہو سکتا تھا۔اگر وہ ایک خدا پرست کے کہنے کے موافق تلاش حق میں قدم اٹھاتے اور خدا کو ڈھونڈتے۔پھر اگر ان کو خدا نہ ملتا تو بے شک کہہ دیتے کہ خدا نہیں ہے،لیکن جب کہ انہوںنے کوئی کوشش اور مجاہدہ ہی نہیں کیا ہے،تو ان کو انکار کرنے کا حق نہیں ہے۔غرض خدا کا وجود ہے اور وہ ایک ایسی شے ہے کہ جس قدر اس پر ایمان بڑھتا جاوے،اسی قدر وقت ملتی جاتی ہے اور وہ نہاںدر نہاں ہستی نظر آنے لگتی ہے۔یہاں تک کہ کھلے کھلے طور پر اس کو دیکھ لیتا ہے اور پھر یہ قوت دن بدن زیادہ ہوتی جاتی ہے ۔یہی ایک بات ہے جس کی تلاش دنیا کو ہونی چاہیے،مگر آج یہ قوتیں دنیا میں نہیں رہی ہیں۔ اسلام کی ترقی یورپ کی اتباع میں نہیں اسلام جو یہ ایمونی قوت لے کر آیا تھا،بہت ضعیف ہو گیا ہے۔اور عام طور پر مسلمانوں نے محسوس کر لیاہے کہ وہ کمزور ہیں؛ورنہ کیا وجہ ہے کہ آئے دن جلسے اور مجلسیں ہوتی رہتی ہیں اور نت نئی انجمنیں بنتی جاتی ہیں۔جن کا یہ دعویٰ ہے کہ اسلام کی حمایت اور امداد کے لئے کام کرتی ہیں۔مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ان مجلسوں میں قوم قوم تو پکارتے ہیں۔قومی ترقی قومی ترقی کے گیت تو گاتے ہیںلیکن کوئی مجھ کو یہ تو بتائے کہ پہلے زمانے میں جب قوم بنی تھی،وہ یورپ کے اتباع سے نبی تھی؟کیا مغربی قوموں کے نقش قدم پر چل کر انہوں نے ساری ترقیاں کی تھیں۔اگر یہ ثابت ہو جاوے کہ ہاں اسی طرح ترقی کی تھی۔تو بے شک گناہ ہو گا اگر ہم اہل یورپ کے نقش قدم پر نہ چلیں۔ لیکن اگر ثابت نہ ہو اور ہر گزثابت نہ ہو گا۔پھر کس قدر ظلم ہے کہ اسلام کے اصولوں کو چھوڑ کر،قرآن کو چھوڑ کر جس نے ایک وحشی دنیا کو اور انسان اور انسان سے باخدا انسان بنایا۔ایک دنیا پرست قوم کی پیروی کی جائے۔جو لوگ اسلام کی بہتری اور زندگی مغربی دنیا کو قبلہ بنا کر چاہتے ہیں۔وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتے ہیں۔ قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے۔اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔دیکھو انہوں نے جب پیغمبر خدا رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا۔تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لئے تھے۔پورے ہو گئے ہیں۔ابتدا میں مخالف ہنسی کرتے تھے کہ باہر آزادی سے نکل نہیں سکتے۔اور بادشاہی کے دعوے کرتے ہیں۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت میں گم ہو کر وہ پایا جو صدیوں سے ان کے حصے میں نہ آیا تھا۔وہ