اسلام کا خدا
جان لیں کہ اسلام کا خدا ایسا گو رکھ دھندا نہیں کہ اسے عقل پر پتھر مار کر بہ جبر منوایا جائے۔ اور صحیفہ فطرت میں کوئی بھی ثبوت اس کے لئے نہ ہو، بلکہ فطرت کے وسیع اوراق میں اس کے اس قدر نشانات ہیں ،جو صاف بتلاتے ہیں کہ وہ ہے۔ ایک ایک چیز اس کائنات میں اس نشان اور تختہ کی طرح ہے جو ہر سڑک اور گلی کے سر پر اس سڑک یا محلے یا شہر کا نام معلوم کرنے کے لئے لگایا جاتا ہے۔ خدا کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور اس موجودہ ہستی کا پتہ ہی نہیں بلکہ مطمئن کر دینے والا ثبوت دیتی ہے۔ زمین و آسمان کی شہادتیں کسی مصنوعی اور بناوٹی خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں دیتیں ۔بلکہ اس خدائے احد الصمد لم یا لد ولم یو لد کی ہستی دکھاتی ہے جو زندہ اور قائم خدا ہے اور جسے اسلام پیش کرتا ہے ؛چنانچہ پادری فنڈر جس نے پہلے پہل ہندوستان میں آکر مذہبی نظاروں میں قدم رکھا اور اسلام پر نکتہ چینیاں کیں، اپنی کتان میزان الحق میں خود ہی سول کے طور پر لکھتا ہے کہ اگر کوئی ایسا جزیرہ ہو جہاں تثلیث کی تعلیم نہ دی گئی ہو۔ تو کیا وہاں کے رہنے والوں پر آخرت میں مواخذہ تثلیث کے عقیدے کی بنا پر ہو گا ۔پھر خود ہی جواب دیتا ہے کہ ان سے توحید کا مواخذہ ہو گا۔ اس سے سمجھ لو کہ اگر توحید کا نقش ہر ایک شے میں نہ پایا جاتا اور تثلیث ایک بناوٹی اورمصنوعی تصویر نہ ہوتی۔ تو عقیدہ توحید کی بناء پر مواخذہ کیوں ہوتا؟
توحید کا نقش قدرت کی ہر چیز میں رکھا ہوا ہے
بات اصل میں یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ہی الست بربکم قالوابلیٰ(الاعراف:۱۷۳)نقش کیا گیا ہے اور تثلیث سے کوئی مناسبت جبلت انسانی اور تمام اشیائے عالم کو نہیں۔ ایک قطرہ پانی کا دیکھو، تو وہ گول نظر آتا ہے۔ مثلث کی شکل میں نظر نہیں آتا۔ اس سے بھی صاف طور پر یہی پایا جاتا ہے کہ توحید کا نقش قدرت کی ہر چیز میں رکھا ہوا ہے۔ خوب غور سے دیکھو کہ پانی کا ایک قطرہ گول ہوتا ہے اور کروی شکل میں توحید ہی ہوتی ہے، اس لئے کہ وہ جہت کو نہیں چاہتی ہے اورمثلث شکل جہت کو چاہتی ہے؛ چنانچہ آگ کو دیکھو۔ شکل بھی مخروطی ہے اور وہ بھی کرویت اپنے اندر رکھتی ہے۔ اس سے بھی توحید کا نور چمکتا ہے۔ زمین کو لو۔ اور انگریزوں سے ہی پوچھو کہ اس کی شکل کیسی ہے؟ کہیں گے گول ۔الغرض طبعی تحقیقاتیں جہاں تک ہوتی چلی جائیں گی وہاں توحید ہی توحید نکلتی چلی جائے گی ۔اللہ تعالیٰ اس آیت ان فی خلق السموت والارض(آل عمران:۱۹۱)میں بتلاتا ہوں کہ جس خداکو قرآن پیش کرتا ہے اس کے لئے زمین آسمان دلائل سے بھرے پڑے ہیں ۔
مجھے ایک حکیم کا مقولہ بہت ہی پسند آتا ہے ۔کہ اگر کل کتابیں دریا برد کر دی جاویں، تو پھر بھی اسلام کا خدا باقی رہ جائے گا۔ اس لئے کہ وہ مثلث اور کہانی نہیں۔ اصل میں پختہ بات وہی ہے ،جس کی صداقت کسی خاص چیز پر منحصر نہ ہو کہ اگر وہ نہ ہو تو اس کا پتہ ہی ندارد۔ قصہ کہانی کا نقش نہ دل پہ ہوتا ہے۔ نہ صحیفہ فطرت میں جب تک کسی پنڈت ،پاندھے یا پادری نے یاد رکھا۔ ان کا کوئی وجود مسلم رہا۔ زاںبعد حرف غلط کی طرح مٹ گیا۔