ہاں آنکھ سے دیکھ لیا ہے؛ورنہ بتاؤ تو سہی کہ وہ کیا بات تھی۔جس نے ان کو ذرا بھی پرواہ نہیں ہونے دی کہ قوم چھوڑی،ملک چھوڑا،جائیدودیں چھوڑیں۔احباب اور رشتہ داروں سے قطع تعلق کیا۔وہ صرف خدا پر ہی بھروسہ تھا۔اور ایک خدا پر بھروسہ کر کے انہوں نے وہ کر دکھایا کہ اگر تاریخ کی ورق گردانی کریں،تو انسان تعجب اور حیرت سے بھر جاتا ہے۔ایمان تھا اور صرف ایمان تھا۔اور کچھ نہ تھا؛ورنہ بالمقابل دنیا داروں کے منصوبے اور تدابیر اور پوری کوششیں اور سر گر میان تھیں پر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ان کی تعداد جماعت ،دولت سب کچھ زیادہ تھا،مگر ایمان نہ تھا۔اور صرف ایمان کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے اور کامیابی کی صورت نہ دیکھ سکے۔مگر صحابہ نے ایمانی قوت سے سب کو جیت لیا۔انہوں نے جب ایک شخص کی آواز سنی۔جس نے باوصفیکہ امی ہونے کی حالت میں پرورش پائی تھی،مگر اپنے صدق اور امانت اور راستبازی میں شہرت یافتہ تھا۔جب اس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں۔یہ سنتے ہی ساتھ ہو گئے اور پھر دیوانو کی طرح اس کے پیچھے چلے۔میں پھر کہتا ہوں کہ وہ صرف ایک ہی بات تھی ۔جس نے ان کی یہ حالت بنا دی اور وہ ایمان تھا۔یاد رکھو!خدا پر ایمان بڑی چیز ہے۔ خدا تعالیٰ کی ہستی انگریزی اور مغربی قومیں دنیا کی تلاش اور خواہش میں لگی ہوئی ہے۔ابتد امیں ایک موہوم اور خیالی امید پر کام شروع کرتے ہیں۔سینکڑوں جانیں ضائع ہوتی  ہیں۔ہزروں لاکھوں روپے بر باد ہوتے ہیں۔آخر ایک بات پا ہی لیتے ہیں۔پھر کس قدر افسوس اور تعجب ان پر ہے۔جو کہتے ہیں کہ خد انہیں مل سکتا۔کس نے مجاہدہ اور سعی کی اور پھر خدا کو نہیں پایا؟خدا تو ملتا ہے اور بہت جلد ملتا ہے۔لیکن اس کے پانے والے کہاں ہیں؟؟؟ اگر کوئی یہ شبہ پیش کرے کہ خدا نہیں ہے۔تو یہ بڑی بے ہودہ بات ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی نادانی اور بے وقوفی نہیں ہے جو خدا کا انکار کیا جاوے۔دنیا میں دو گواہوں کے کہنے سے عدالت ڈگری دے دیتی ہے۔چند گواہوں کے بیان پر جان جیسی عزیز چیز کے خلاف عدالت فتویٰ دے دیتی ہے اور پھانسی پر لٹکا دیتی ہے۔حالانکہ شہادتوں میں جعل اور سازش کا اندیشہ ہی نہیں یقین ہوتا ہے۔لیکن خدا کے متعلق ہزاروں لاکھوں انسانوں نے جو اپنی قوم اور ملک میں مسلم راستباز نیک چلن تھے۔شہادت دی ہو،اسے کافی نہ سمجھا جائے۔اس سے بڑھ کر حماقت اور ہٹ دھرمی کیا ہو گی کہ لاکھوں مقدسوں کی شہادت موجود ہے اور پھر انہوںنے اپنی عملی حالت سے بتا دیا ہے اور خون دل سے یہ شہادت لکھ دی ہے کہ خدا ہے اور ضرور ہے۔اس پر بھی اگر کوئی انکار کرتا ہے،تو وہ بے وقوف ہے اور پھر عجیب تو یہ بات ہے کہ کسی معاملے میں رائے دینے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا علم ہو ۔جس شخص کو علم ہی نہیں،وہ رائے دینے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔روئے زنی کرے تو کیا وہ احمق اور بے وقوف نہ کہلائے گا۔ضرور کہالئے گا،بلکہ دوسرے دانشمند اس کو شرمندہ کریں گے کہ احمق جبکہ تجھے واقفیت ہی نہیں ،تو