کسی قسم کا تعرض نہیں کرتی۔علوم دین حاصل کرنے کے پورے سامان میسر ہیں۔ارکان مذہبی ادا کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ایک سجدہ کا کرنا بار گراں معلوم ہوتا ہے غور تو کرو کہاں سر اور کہاں صرف ایک سجدہ!اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آج ایمان کیسا انحطاط کی حالت میں ہے۔
وضو اور نماز اور پھر ایسی حالت میں کہ نماز پڑھنا اور وضو کا کرنا طبی فوائد بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے۔اطباء کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہر روز منہ نہ دھوئے تو آنکھ آجاتی ہے۔اور یہ نزول الماءکا مقدمہ ہے۔اور بہت سی بیماریاںاس سے پیدا ہوتی ہیں۔پھر بتلاؤ کہ و ضو کرتے ہوئے موت کیوں آجاتی ہے۔بظاہر کیسی عمدی بات ہے۔منہ میں پانی ڈال کر کلی کرنا ہوتا ہے۔مسواک کرنے سے منہ کی بد بو دور ہو جاتی ہے۔دانت مضبوط ہو جاتے ہیں اور دانتوں کی مضبوطی غذا کے عمدہ طور پر چبانے اور جلد ہضم ہو جانے کا باعث ہوتی ہے۔پھر ناک صاف کرنا ہوتا ہے۔ناک میں کوئی بد بو داخل ہو ،تو دماغ کو پرا گندہ کر دیتی ہے۔اب بتلاؤ کہ اس میں برائی کیا ہے۔اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی حاجات لے جاتا ہے۔اور اس کا اپنے مطالب عرض کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔دعا کرنے کے لئے فرصت ہوتی ہے۔زیادہ سے زیادہ نماز میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے؛اگرچہ بعض نمازیں تو پندرہ منٹ سے بھی کم وقت میں داد ہو جاتی ہیں۔پھر بڑی حیرانی کی بات ہے کہ نماز کے وقت کو تضیع اوقات سمجھا جاتا ہے۔جس میں اس قدر بھلائیاں اور فائدے ہیں اور اگر سارا دن اور ساری رات لغو اور فضول باتوں یا کھیل اور تماشوں میں ضائع کر دیںتو اس کا نام مصروفیت رکھا جاتا ہے۔اگر قوی ایمان ہوتا ،قوی تو ایک ہی طرف اگر ایمان ہی ہوتا ،تو یہ حالت کیوں ہوتی اور یہاں تک نوبت کیوں آتی۔
ناصح سے تنفر باوجود اس کے کہ اس قدر ایمانی حالت گر گئی ہے۔اس پر بھی اگر کوئی اس کمزوری کو محسوس کرا کے اس کا علاج کرنا چاہے اور وہ راہ بتائے جس پر چل کر انسان خدا سےایک قوت اور شجاعت پاتا ہے ،تو اس کو کافر اور دجال کہا جاتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ ایما ن کا ایک نتیجہ یقین نہیں کر سکتے۔تو کم از کم فرض ہی کر لیں۔فرائض پر بھی تو بڑے بڑے نتائج مرتب ہو جاتے ہیں۔دیکھو!اقلیدس کا سارا مدار فرض پر ہی ہے،اس سے بھی کس قدر فوائد پہنچتے ہیں۔بڑے بڑے علوم کی بناء اولاً فرض ہی پر ہوتی ہے۔پس اگر ایمان کو بھی فرض کر کے ہی اختیار کر لیتے۔تب بھی یقین ہے کہ وہ کالی ہاتھ نہ رہتے،مگر یہاں تو یہ حال ہو گیا ہے کہ وہ تو سرے ہی سے اسے بے معنی شے سمجھتے ہیں۔
صحابہؓ کا ایمان میں پھر صحابہ کی حالت کو نظیر کے طور پر پیش کر کہ کہتا ہوں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لا کر اپنی عملی حالت میں دکھایا کہ وہ خدا جو غیب الغیب ہستی ہے اور جو باطل پرست مخلوق کی نظروں سے پوشیدہ اور نہاں ہے۔انہوں نے اپنی آنکھ سے ہاں آنکھ سے