میں حاضر ہوئے۔حضور نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی:
’’ہر ایک قدم جو صدق اور تلاش حق کے لئے اٹھایا جاوے۔اس کے لئے بہت بڑا اجر اور ثواب ملتا ہے،مگر عالم مخفی عالم ہے،جس کو دنیا دار کی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔
بات یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ باوجود آشکار ہو نے کے مخفی اور نہاں درنہاں ہے اور اس لئے الغیب بھی اس کا نام ہے۔اسی طرح پر ایمان بالغیب بھی ایک چیز ہے۔جو گو مخفی ہوتا ہے،مگر عامل کی عملی حالت سے ظاہر ہو جاتا ہے۔اس زمانہ میں ایمان بالغیب بہت کمزور حالت میں ہے۔اگر خدا پر ایمان ہو ،تو پھر کیا وجہ ہے کہ لوگوں میں وہ صدق و حق کی تلاش او ر پیاس نہیں پائی جاتی جو ایمان کا خاصہ ہے۔
ایمان کی قوت خدا کی راہ میں سختی کا برداشت کرنا ۔مسائب اور مشکلات کے جھیلنے کے لئے ہمہ تن تیار ہو جانا ایمانی تحریک ہی سے ہوتا ہے۔ایمان ایک قوت ہے۔جو سچی شجاعت
اور ہمت انسان کو عطا کرتا ہے ۔اس کا نمونہ صحابہ ؓ کرام رضوان اللہ اجمعین کی زندگی میں نظر آتاہے۔جب وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہوئے،تو وہ کونسی بات تھی کہ اس طرح پر ایک بیکس ناتواں انسان کے ساتھ ہو جانے سے ہم کو کوئی ثواب ملے گا۔ظاہری آنکھ تو اس کے سواک کچھ نہ دکھاتی تھی کہ اس ایک کے ساتھ ہونے سے ساری قوموں کو اپنا دشمن بنا لیا ہے۔جس کا نتیجہ صریح یہ معلوم ہوتا تھا کہ مصائب اور مشکلات کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑے گا اور وہ چکنا چور کر ڈالے گا،اسی طرح پر ہم ضائع ہو جائیں گے۔مگر کوئی اور آنکھ بھی تھی جس نے ان مصائب اور مشکلات کو ہیچ سمجھا تھا اور اس راہ میں مر جانا اس کی نگاہ میں ایک راحت اور سرور کا موجب تھا۔اس نے وہ کچھ دیکھا تھا جو ان ظاہر بین آنکھوں کے نظارہ سے نہاں در نہاںاور بہت ہی دور تھا۔وہ ایمونی آنکھ تھی اور ایمونی قوت تھی جو ان ساری تکلیفوں اور دکھوں کو بالکل ہیچ دکھاتی تھی۔آخر ایمان ہی غالب اایا اور ایمون نے وہ کرشمہ دکھایا کہ جس پر ہنستے تھے۔جس کو ناتوں اور بیکس کہتے تھے۔اس نے اس ایمان کے ذریعہ سے ان و کہاں پہنچا دیا۔وہ ثواب اور اجر جو پہلے مخفی تھا۔پھر ایسا آشکار ہوا کہ اس کو دنیا نے دیکھا اور محسوس کیا کہ ہاں یہ اسی کا ثمر ہے۔ایمان کی بدولت وہ جماعت صحابہ ؓ کی نہ تھکی اور نہ ماندہ ہوئی۔بلکہ قوت ایمانی کی تحریک سے بڑے بڑے عظیم الشان کام دکھائے۔اور پھر بھی کہا تو یہی کہا کہ جو حق کرنے کا تھا نہیں کیا۔ایمان نے ان کو وہ قوت عطا کی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سر کا دینا اور جانوروں کا قربان کر دینا ایک ادنیٰ سی بات تھی اور اہل اسلام نے جب کہ ابھی کوئی بین نتائج نظر نہ آتے تھے۔دیکھو!کس قدر مسلمانوں نے دشمنوں کے ہاتھوں سے کیسی کیسی تکلیفیں اور مصیبتیں محض لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کہنے کے بدلے برداشت کیں۔ایک وہ زمانہ تھا کہ سر دنیا کوئی بری بات نہ تھی اور یا ایک یہ زمانہ ہے کہ باوجود اس کے کے مخالف اس قسم کی اذیتیں نہیں دیتے۔ایک عادل گورنمنٹ کے سائے میں رہتے ہیں۔سلطنت