بات پر ناراض ہو کر اس کو مارتا ہے اور کسی نازک مقام پر چوٹ لگی ہے اور بیوی مر گی ہے،اس لئے ان کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ و عاشرو ھن بالمعروف(النساء:۲۰)ہاں اگر وہ بے جا کام کرے،تو تنبیہہ ضروری چیز ہے۔ انسان کو چاہیے کہ عورتوں کے دل میں یہ بات جما دے کہ وہ کوئی ایسا کام جو دین کے خلاف ہو کبھی بھی پسند نہیں کر سکتا ور ساتھ ہی وہ ایسا جابر اور ستم شعار نہیں کہ اس کی کسی غلطی پر بھی چشم پوشی نہیں کر سکتا۔ خاوند عورت کے لئے اللہ تعالیٰ کا مظہر ہوتا ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے سوا کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا،تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ۔پس مرد میں جلالی اور جمالی رنگ دونوں موجود ہونے چوہیں۔اگر خاوند عورت سے کہے کہ تو اینٹوں کا ڈھیر ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دے،تو سا کا حق نہیں ہے کہ اعتراض کرے۔ مرشد اور مرید کا تعلق ایسا ہی قرآن اور حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مرشد کیساتھ مرید کا تعلق ایسا ہونا چاہیے۔جیسا عورت کا تعلق مرد سے ہو۔مرشد کے کسی حکم کا انکار نہ کرے اور اس کی دلیل نہ پوچھے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میںاھد نا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم (الفاتحہ:۶،۷)فرمایا ہے کہ منعم علیہ کی راہ مقیدر ہیں۔انسان چونکہ طبعاً آزادی کو چاہتا ہے پس حکم کر دیا ہے کہ اس راہ کو اختیار کرے۔تجربہ کار ڈاکٹر اگر غلطی بھی کرے،تو جاہل کے علاج سے بہتر ہے۔ ایک جاہل کے پاس اگر اعلیٰ درجہ کے تیز اوزار ہیں،لیکن ہاتھ حاذق ڈاکٹر نہ ہو تو وہ اوزار کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔کسی نے کہا ہے۔ ؎ اگر دست سلیمانی نہ باشد چہ خاصیت دہد نقش سلیماں پس قرآن کریم ایک تیز ہتھیار ہے،لیکن اس کے استعمال کے لئے اعلیٰ درجہ کے ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔جو خدا کی تائیدات سے فیض یافتہ ہو۔ یہ ضروری بات ہے کہ دل پاک ہو۔لیکن ہر جگہ یہ دولت میسر نہیں آ سکتی تھی۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو پیدا کیا،مگر ہر شخص نبی نہیں ہوتا اور وہ تعداد کم ہے۔ آدم کہلانے کی حقیقت آدم ہی ایک ہے جو نطفہ کے بغیر پیدا ہوا ہے۔اسی طرح میرا یہ الہام ہے۔ارادت ان استخلف فخلقت ادم۔ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اس کو کسی کی بیعت اور مریدی کی ضرورت نہ ہو گی،بلکہ جیسے آدم کو خدا نے اپنے