پھر دو تین زینے چڑھے پھر چکر آیا اور اسی چکر کے ساتھ جان نکل گئی۔ایسا ہی غلام محی الدین کونسلی کشمیر کا ممبر یکدفعہ ہی مر گیا۔غرض موت کے آجانے کا ہم کو کوئی بھی وقت معلوم نہیں ہے کہ کس وقت آجاوے۔اسی لیے ضروری ہے کہ اس سے بے فکر نہ ہوں۔پس دین کی غم خواری ایک بڑی چیز ہے۔جو سکرات الموت میں سر خرو رکھتی ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے ۔ان زلزلۃ الساعۃشی عظیم(الحج:۲)ساعت سے مراد قیامت بھی ہو گی۔ہم کو اس سے انکار نہیں،مگر اس میں سکرات الموت ہی مراد ہے۔کیونکہ انقطاع تام کا وقت ہوتا ہے۔انسان اپنے محبوبات اور مرغوبات سے یک دفعہ الگ ہوتا ہے اور ایک عجیب قسم کا زلزلہ اس پر طاری ہوتا ہے۔گویا اندر ہی اندر وہ ایک شکنجہ میں ہوتا ہے۔اس لئے انسان کی تما تر سعادت یہی کہ وہ موت کا خیال رکھے اور دنیا اور اس کی چیزیںاس کی ایسی محبوبات نہ ہوں جو اس آخری ساعت میں علیحدگی کے وقت اس کی تکالیف کا موجب ہوں۔دنیا اور اس کی چیزوں کے متعلق ایک شاعر نے کہا ہے  ایں ہمہ رابہ کشتنت آہنگ  گاہ بصلح کشند وگاہ بجنگ  قرآن کریم نے اس مضمون کو اس آیت میں ادا کر دیا ہے انما اموالکم واولادکم فتنۃ(الانفال:۲۹)اموالکم میں عورتیں داخل ہیں۔عورت چونکہ پردہ میں رہتی ہے،اس لئے اس کا نام ہی پردہ میں ہی رکھا گیا ہے اور اس لئے بھی کہ عورتوں کو انسان مال خرچ کر کے لاتا ہے۔مال کا لفظ مائل سے لیا گیا ہے۔یعنی جس کی طرف طبعاً توجہ اور رغبت کرتا ہے۔عورت کی طرف بھی چونکہ طبعاً توجہ کرتا ہے،اس لئے اس کو مال میں دخل فرمایا ہے۔مال کا لفظ اس لئے رکھا تا کہ عام محبوبات پر حاوی؛ورنہ اگر صرف نساء کا لفظ ہوتا۔تو اولاد اور عورت دو چیزیں قرار دی جائیں۔اور اگر محبوبات کی تفصیل کی جاتی،تو پھر دو جز میں بھی ختم نہ ہوتا۔غرض مال سے مراد کل ما یمیل الیہ القلب ہے۔اولاد کا ذکر اس لئے کیا کہ انسان اولاد کو جگر کا ٹکڑا اور اپنا وارث سمجھتا ہے۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ اور انسان کے محبوبات میں ضد ہے۔دونوں باتیں ہو سکتیں۔ بیوی سے حسن سلوک اس سے یہ مت سمجھو کہ پھر عورتیں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کو بہت ذلیل اور حقیر قرار دیا جاوے۔نہیں۔نہیں۔ہمارے ہادی کامل رسول اللہ صلی اللہ  علیہ والیہ وسلم نے فرمایا ہے خیرکم خیرکم لاھلہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں۔وہ نیک کہاں۔دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے۔جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو۔اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو۔نہ یہ کہ ہر ادنیٰ بات پر ذود کوب کرے۔ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک غصہ سے بھرا ہوا انسان اپنی بیوی سے ادنیٰ سی