میں تو بار بار یہی کہتا ہوں کہ ہمارا طریق تو یہ ہے کہ نئے سرے سے مسلمان بنو۔پھر اللہ تعالیٰ اصل حقیقت خود کھول دے گا۔میں سچ کہتا ہوںکہ اگر وہ امام جن کے ساتھ یہ اس قدر محبت کو لغو کرتے ہیں زندہ ہوں۔تو ان سے سخت بے زاری ظاہر کرین۔ جب ہم ایسے لوگوں سے اعراض کرتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا اعتراض کیا ،جس کا جواب نہ آیا اور پھر بعض اوقات اشتہار دیتے رہتے ہیں۔مگر ہم ایسی باتوں کی کیا پرواہ کر سکتے ہیں۔ہم کو تو وہ کرنا ہے جو ہمارا کام ہے۔ اس لئے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کاجھگڑاچھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔‘‘؎۱ ۸دسمبر۱۹۰۰؁ء ایک الہام اور اپنی وحی پر یقین فرمایا:’’کل رات میری انگلی کے پوٹے میں درد تھا اور اس شدت کے ساتھ تھا کہ مجھے خیال آیا تھا کہ رات کیونکر بسر  ہو گی۔آخر ذرا سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا۔کُوْنِیْ بَرْداً وَّسَلَاماً اور سَلَاماً کا لفظ ابھی ختم نہ ہونے پایا تھا کہ معاً درد جاتا رہا ایسا کہ کبھی ہوا نہ تھا۔‘‘ نیز فرمایا کہ: ’’ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتا ہے۔اس قدر یقین اور اعلیٰ درجہ البصیرۃیقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے ،جس قسم کی چاہو۔قسم دے دو۔بلکہ میرا تو یقین یہاںتک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں،یا وہم بھی کروں کہ خدا کی طرف سے تو نہیں تو معاً کافر ہوجاوں ۔‘‘؎۲ ۱۳دسمبر۱۹۰۰؁ء نصرت الہی فیصلہ کن قاضی ہے الہی بخش لاہوری مخالف کی کتاب’’عصائے موسیٰ‘‘تمام وکمال پڑھ کر حضرت اقدس ؑنے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کی فضولیات کو چھوڑ کر چند گھنٹوںکا کام ہے اس کا جواب دے دینا،لیکن میں