محض ترحم سے سے کچھ مدت تک اس کو چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ لوگ بھی خوش ہو لیں۔آخر پرانے رفیق تھے۔سچے جھوٹے میں نصرت الہی فرق کرتی ہے۔ نیز اسی اثناء میں بہت سے لوگوں کے فہم اور عقلیں اور ایمان ہمیں معلوم ہو جائیں گے کہ کون کون اس پر یویو کرتا ہے۔اور کیا کرتا ہے۔اور کون کون اس کے وسوسوں سے متاثر ہوتا ہے۔بہر حال مصلحت یہی ہے کہ ایک وقت تک اس سے اغماض کیا جاوے۔ یہ مت سمجھو کہ ہمارے حق میں یہ کتاب شر ہے۔یقیناً یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ نے اس سے ہماری خیر کا ارادہ فرمایا ہے۔آخری فیصلہ کی راہ خدا تعالیٰ کی نصرتوں اور تائیدوں کے سوا کیا ہو سکتی ہے؟جو اعتراض اس نے ہم پر کیے ہیں۔وہی نصاریٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذاتیات پر کرتے ہیں؟آخر انا فتحنا لک فتحاًمبیناًلیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر(الفتح:۲،۳)نے فیصلہ کر دیا کہ سارے جزوی اعترض باطل تھے۔حضرت موسیٰ پر آریوں نے کیا کیا اعتراض کیے کہ فر عونیوں کا مال انہوں نے غبن کیا اور بچے مارے اور یہ کیا اور وہ کیا۔مگر نصرت الہی نے غرق فرعون اور آپ کی نجات سے فیصلہ کر دیا کہ حق کس طرف تھا۔غرض نصرت الہی آخر کار بڑا فیصلہ کن قاضی ہوتی ہے۔ ہمارے اور ان کے درمیان یہی نصرت الہی اورتائیدات سماوی فیصلہ کن ہوں گی۔‘‘؎۱ ۲۲دسمبر۱۹۰۰؁ء وقت کی قدر کرو ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’ڈاکٹر صاحب!ہمارے دوست دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جن کے ساتھ ہم کو  کوئی جناب نہیں اور دوسرے وہ جن کے ساتھ ہم کو حجاب ہے۔اس لئے ان کے دل کا اچر ہم پر پڑتا ہے اور ہم کو بھی ان سے حجاب رہتا ہے۔جن لوگوں سے ہم کو کوئی حجاب نہیں ہے۔ان میں سے ایک آپ بھی ہیں۔ہم چاہتے ہیںکہ ہمارے وہ دوست جن کو ہم سے کچھ حجاب نہیں رہا،وہ ہمارے پاس رہیں۔کیونکہ موت کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ہم سب کے سب عمر کی ایک تیز رفتار گاڑی پر سوار ہیں اور مختلف مقامات کے ٹکٹ ہمارے پاس ہیں۔کوئی دس برس کی منزل پر اتر جاتا ہے۔کوئی بیس کوئی تیس اور بہت ہی کم اسی منزل پر جا کر۔جبکہ یہ حال ہے تو پھر کیا بد نصیب وہ انسان ہے کہ وہ اس وقت