انبیاء علیہم السلام کے لئے دونوں حصے ہوتے ہیں۔اس لئے ان کو سراً وعلانیۃ نیکی کا حکم ہوتا ہے۔‘‘ میرے پاس آؤ اور میری سنو! ’’ میری حیثیت ایک معمولی مولوی کی حیثیت نہیں ہے۔بلکہ میری حیثیت سنن انبیاء کی سی حیثیت ہے۔مجھے ایک سماوی  آدمی مانو۔پھر یہ سارے جھگڑے اور تمام نزاعیں جو مسلمانوں میں پڑی ہوئی ہیں،ایک دم میں طے ہو سکتی ہیں۔جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر حکم بن کر آیا ہے۔ھو معنے قراان شریف کے وہ کرے گا،وہی صحیح ہوں گے۔اور جس حدیث کو وہ صحیح قرار دے گا ،وہی حدیث صحیح ہو گی۔ ٍ ورنہ شیعہ سنی کے جھگڑے آج تک دیکھو کب طے ہونے میں آئے ہیں۔شیعہ اگر تبرا کرتے ہیں،تو بعض ایسے بھی ہیں جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت کہتے ہیں۔ بر خلافت دلش بسے مائل لیک بو بکر شد دراں حائل مگر میں کہتا ہوں کہ جب تک یہ اپنا طریق چھوڑ کر مجھ میں نہیں دیکھتے۔یہ حق پر ہر گز نہیں پہنچ سکتے۔اگر ان لوگوں کو اور یقین نہیں تو اتنا تو ہونا چاہیے کہ آخر مرنا ہے اور مرنے کے بعد گند سے تو کبھی نجات نہیں ہوسکتی۔سب وشتم جب ایک شریف آدمی کے نزدیک پسندیدہ چیز نہیں ہے۔تو پھر خدا ئے قدوس کے حضور عبادت کب ہو سکتی ہے؟اس لئے تو میں کہتا ہوں کہ’’میرے پاس آؤ،میری سنو تا کہ تمہیں حق نظر آؤے‘‘۔میں تو سارا ہی چولہ اتارنا چاہتا ہوں۔سچی توبہ کر کے مومن بن جاؤ۔پھر جس امام کے تم منتظر ہو،میں کہتا ہوں کہ وہ میں ہوں۔اس کا ثبوت مجھ سے لو۔اس لئے میں نے اس خلیفہ بلافاصل کے سوال کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھا۔میں ایسے گندے سوال کو کیوں کروں۔انہیں گندگوں کو نکالنے کے واسطے تو خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ دیکھو!سُنّی اُن کی حدیثوں کو لغو ٹھہراتے ہیں۔یہ اپنی حدیثوں کو مرفوع متصل اور اَئمہ سے مروی قرار دیتے ہیں۔ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ سارے جھگڑے فضول ہیں۔اب مردہ باتوں کو چھوڑو اور ایک زندہ امام کو تلاش کروکہ تمہیں زندگی کی روح ملے۔اگر تمہیں خدا کی تلاش ہے،تو اس کو ڈھونڈو جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔اگر کوئی شخص خبث کو نہیں چھوڑتا،تو کیا ہم اندھے ہیں؟منافق کے دل کی بد بو نہیں سونگھتے۔ہم انسان کو فوراً تاڑ جاتے ہیں۔کہ اس کی بات اس بناء پر ہے۔پس یاد رکھو۔خدا نے یہی راہ پسند کی ہے جو میں بتاتا ہوں اور یہ قرب راہ اس نے نکالی ہے۔دیکھو جو ریل جیسی آرام دہ سواری کو چھوڑ کر ایک لنگڑے مریل ٹٹو پر سوار ہوتا ہے،وہ منزل پر پہنچ نہیں سکتا۔افسوس!یہ لوگ خدا کی باتو ں کو چھوڑ کر زید بکر کی باتوںپر مرتے ہیں۔ان سے پوچھو کہ وہ حدیثیں کس نے دی ہیں؟