فرماتا ہے۔جیسا کہ فرمایا : ان اللہ مع الذین اتقو اوالذین ھم مھسنون(النحل:۱۲۹) عقل سے بھی کام لینا چاہیے ہم کو عقل سے بھی کام لینا چاہیے ،کیونکہ انسان عقل کی وجہ سے مکلف ہے ۔کوئی آدمی بھی خلاف عقل باتوں کو ماننے پر مجبور نہیں ہو سکتا ۔قوی کی برداشت اور حوصلہ سے بڑھ کر کسی قسم کی شرعی تکلیف نہیں اٹھوائی گئی۔لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا(البقرہ:۲۸۷) اس آیت سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ایسے نہیں جن کی بجا آوری کوئی کر ہی نہ سکے اور نہ شرائع واحکام خدا تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے نازل کیے کہ اپنی بڑی فصاحت و بلاغت اور ایجادی قانونی طاقت اور چیستان طرازی کا فخر انسان پر ظاہر کرے اور یوں پہلے سے ہی اپنی جگہ ٹھان رکھا تھا کہ بے ہودہ ضعیف انسان اور کہاں کا ان حکموں پر عمل درآمد ؟خدا تعالیٰ اس سے برتر و پاک ہے کہ ایسا لغو فعل کرے ۔ہاں عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں کوئی آدمی شریعت کی تا بعداری اور خدا کے حکموں کی بجا آوری کر ہی نہیں سکتا۔ نادان اتنا نہیں جانتے کہ پھر خدا کو شریعت کی کیا ضرورت پڑی تھی۔ ان کے خیال اور اعتقد میں گویا اللہ تعالیٰ نے نعوذ باللہ پہلے نبیوں پہ شریعت نازل کر کے عبث اور بے ہودہ کام کیا۔ اصل میں خدا کی ذات پاک پر اس قسم کی عیب تراشی کی ضرورت عیسائیوں کو اسی کفار کے مسئلہ کی گھڑت کے لئے پیش آئی ۔مجھے حیرت اور تعجب ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ایک اخترائی مسئلہ کی بنیود قائم کرنے کے لئے اس بات کی بھی پرواہ نہیں کی کہ خدا کی ذات پر کس قسم کا گندہ حرف آتا ہے۔ قرآنی تعلیم کا ہر ایک معلل با اغراض ومصالح ہے ہاں! یہ خوبی قرآنی تعلیم میں ہے کہ اس کا ہرحکم معلل با اغراض ومصالحہ ہے اور اس لئے بجا قرآن مجید میں تاکید ہے کہ عقل ،فہم، تدبر، فقاہت اور ایمان سے کام لیا جاے اور قرآن مجید اور دوسری کتابون میں یہی مابہ لا امتیاز ہے ۔اور کسی کتاب نے اپنی تعلیم کو عقل اور تدبر کی دقیق اور آزاد نکتہ چینی کے آگے ڈالنے کی جرات ہی نہیں کی۔ بلکہ انجیل خاموش کے چالاک اور عیار حامیوں نے اس خیال سے کہ انجیل کی تعلیم زور کے مقابل بے جان محض ہے۔ نہایت ہوشیاری سے اپنے عقائد میں اس امر کو داخل کر لیا کہ تثلیث اور کفار ہ ایسے راز ہیں کہ انسانی عقل ان کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی ۔بر خلاف اس کے فرقان حمید کی یہ تعلیم ہے۔ ان فی خلق السموات والارض واختلاف الیل والنہار لایت لا ولی الالباب الذین یذکرون اللہ(آل عمران:۱۹۱،۱۹۲)یعنی آسمان کی بناوٹ اور زمین کی بناوٹ اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنا دانشمندوں کو اس اللہ کا صاف پتہ دیتے ہیں۔ جس کی طرف مذہب اسلام دعوت دیتا ہے ۔اس آیت میں کس قدر صاف حکم ہے کہ دانشمند اپنی دانشوں اور مغزوں سے بھی کام لیں۔