مرض سے اپنے ماموروں اور برگزیدوں کو بچا لیتا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوتا کہ مومن پر جھوٹا الزام لگایا جاوے اور وہ بری نہ کیا جاوے۔خصوصاًمصلح اور مامور یہی وجہ ہے کہ مصلح یا مور حسب نسب کے لحاظ سے بھی ایک اعلی درجہ رکھتا ہے؛اگرچہ ہمارا مذہب یہی ہے اور یہی سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک تکریم اور تعظیم کا معیار صرف تقویٰ ہی ہے اور ہم یہ مانتے ہیں کہ چوہڑا بھی مسلمان ہو کر اعلیٰ درجہ کا قرب اور درجہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاصل کر سکتا ہے۔اور وہاں کسی خاص قوم یا ذات کے لئے فضل مخصوص نہیں ہے،مگر سنت اللہ اسی پر جاری ہے کہ وہ جس مامور یا مصلح مقرر فرماتا ہے،اس کو ایک اعلیٰ خاندان میں ہونئے کا شرف دیتا ہے۔اور یہ اس لئے کہ لوگوں پر اس کا ثر پڑے اور کوئی طعنہ نہ دے سکے۔‘‘؎۱
۱۵نومبر۱۹۰۰ء
نبی اور ولی کی عبادت میں فرق خیانت اور ریا کاری دو ایسی چیزیں ہیںکہ ان کی رفتار بہت ہی سست اور دھیمی ہے،اگر کسی زاہد کو فاسق کہہ دیا
جاوے تو اسے ایک لذت آجائے گی اس واسطے کہ وہ راز جواس کے اور اس کے محبوب ومولیٰ کے درمیان ہے وہ مخفی معلوم دے گا۔صوفی کہتے ہیں کہ خالص مومن جبکہ عین عبادت میں مصروف ہو اور وہ اپنے آپ کو پوشیدہ کر کے کسی حجرے یا کوٹھڑی کے دروازے بند کر کے بیٹھا ہو ۔ایسی حالت میں گر کوئی شخص اس پر چلا جاوے تو وہ اسی طرح شرمندہ ہو جائے گا،جیسے ایک بد کار اپنی بدی کو چھپاتا ہے۔جیسے کہ اس قسم کے مومن کو کسی کے فاسق کہنے سے ایک لذت آتی ہے۔اس طرح دیانت دار کو کسی کے بد دیانت کہنے سے جوش میں نہیں آنا چاہیے۔
ہاں!انبیاء میں ایک قسم کا استثناء ہوتا ہے،کیونکہ اگر وہ اپنی عبادت اور افعال کو چھپائیں،تو دنیا ہلاک ہو جائے گی۔مثلاً اگر نبی نے نماز پڑھ لی ہو تو اور کوئی کہے کہ دیکھو ۔اس نے نماز نہیں پڑھی،تو اس کو چپ رہنا مناسب نہیں ہوتا اور اس کو بتلان آپڑتا ہے کہ تم غلط کہہ رہے ہو۔میں نے نماز پڑھ لی ہے۔اس لئے کہ اگر وہ نہ کہے،دوسرے لوگ دھوکہ میں پڑ کر گمراہ ہو سکتے ہے۔پس نبیوں کو ضرور ہوتا ہے کہ وہ اپنی عبادت کا ایک حصہ ظاہر طور پر کریں۔اور لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے تا کہ ان کو سکھا دیں۔یہ ریا نہیں ہوتی۔اگر کوئی کہے کہ خضر صاحب شریعت نہ تھا۔ولی تھا۔