الصراط المستقیم سے پایا جاتا ہے کہ جب انسانی کوششیں تھک کر رہ جاتی ہیں،تو آخر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔
دُعا کامل تب ہوتی ہے کہ ہر قسم کی خیر کی جامع ہواور ہر شر سے بچاوے۔پس اھدنا الصراط المستقیم میں سارے خیر جمع ہیں۔اور غیر المغضوب علیہم ولاالضالین میں سب شروں حتٰی کہ دجالی فتنہ سے بچنے کی دُعا ہے۔ مغضوب سے بالا تفاق یہودی اور الضالین سے نصاریٰ مراد ہیں۔اب اگر اس میں کوئی رمزاور حقیقت نہ تھی،تو اس دُعا کی تعلیم سے کیا غرض تھی؟اور پھر ایسی تاکید کہ اس دُعا کے بدوں نماز ہی نہیں ہوتی اور ہر رکعت میں اُس کا پڑھا جانا ضروری قرار دیا۔بھید اس میں یہی تھا کہ یہ ہمارے زمانہ کی طرف ایماء ہے۔اس وقت صراط مستقیم یہی ہے جو ہماری راہ ہے۔‘‘
۹۔مسیحؑ کی شبیہہ کا افسانہ ’’کہتے ہیں کہ مسیحؑ کی شبیہہ کو رسولی دی گئی۔مگر میں کہتا ہوں کہ اس میں حصر عقلی یہی بتاتا ہے کہ وہ شخص جو مسیحؑ کو شبیہہ بنایا گیا،یا
دشمن ہو گا یا دوست۔اگر وہ دشمن تھا تو ضرور تھا کہ وہ شور مچاتا کہ میں مسیحؑ نہیں ہوں اور میرے فلاں رشتہ دار موجود ہیں۔میرا اپنی بیوی کے ساتھ فلاں راز ہے۔مسیحؑ کو میں ایسا سمجھتا ہوں۔غرض وہ شور مچا کر اپنی صفائی اور بریت کرتا؛حالانکہ کسی تاریخ صحیح سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ جو شخص صلیب پر لٹکایا گیا تھا،اس نے شور مچا کر رہائی حاصل کر لی تھی۔
اور اگر وہ مسیحؑ کا دوست اور حواری ہی تھا۔پھر صاف بات ہے کہ وہ مومن باللہ تھا اور وہ صلیب پر مرنے کی وجہ سے بلا وجہ ملعون ہوا اور خدانے اس کو ملعون بنایا۔رہی یہ بات کہ مصلوب ملعون کیوں ہوتا ہے؟ یہ عام بات ہے کہ جو چیز کسی فرقہ سے تعلق رکھتی ہے،وہ اس کے ساتھ منسوب ہو جاتی ہے۔سولی کو مجرموں کے ساتھ تعلق ہے جو گویا کاٹ دینے کے قابل ہوتے ہیں اور خدا کا تعلق مجرم کے ساتھ کبھی نہیں ہوتا۔یہی *** ہے۔ اس وجہ سے وہ *** ہوتا ہے۔
اس لیے یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک مومن ناکردہ گناہ ملعون قرار دیا جاوے۔پس یہ دونوںباتیں غلط ہیں۔اصل وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر ظاہر کی کہ مسیحؑ کی حالت غشی وغیرہ سے ایسی ہو گئی جیسے مردہ ہوتے ہیں۔
۱۰۔انبیاء خبیث امراض سے محفوظ رکھے جاتے ہیں ’’انبیاء علیہم السلام اور اللہ تعالیٰ کے مامور خبیث اور ذلیل
بیماریوں سے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔مثلاً آتشک ہو،جزام ہو یا ایسی کوئی اور ذلیل مرض۔یہ بیماریاں خبیث لوگوں ہی کی ہوتی ہیں۔الخبیثٰت للخبیثین(النور:۲۷)اس میں عام لفظ رکھا ہے۔ اور نکات بھی عام ہیں۔اس لئے ہر خبیث