پھر انسان کس زندگی پر خیالی پلائو پکاتا اور لمبی امیدیں باندھتا ہے۔‘‘
۳معراج کا سر ’’معراج انقطاع تام تھا اور سر اس میںیہ تھا کہ تارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقطئہ نفسی کو ظاہر کیا جا وے۔آسمان پر ہر ایک روح کے لیے ایک نقطہ
ہوتا ہے۔اس سے آگے وہ نہیں جاتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطئہ نفسی عرش تھا اور رفیق اعلیٰ کے معنے بھی خدا ہی کے ہیں۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اور کوئی معززومکرم نہیں ہے۔‘‘
۴۔نماز تعویذ ہے ’’نماز انسان کا تعویذ ہے۔پانچ وقت دعا کا موقعہ ملتا ہے۔کوئی دُعا تو سنی جائے گی۔اس لیے نماز کو بہت سنوار کر پڑھنا چاہیے اور مجھے یہی
بہت عزیز ہے۔‘‘
۵۔فاتحہؔ کی ساتؔ آیات کی حکمت ’’سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں اسی واسطے رکھی ہیں کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں۔پس ہر ایک آیت
گویا ایک دروازہ سے بچاتی ہے۔‘‘
۶۔اصل جنت ’’اعلیٰ درجے کی خوشی خدا میں ملتی ہے۔جس سے پرے کوئی خوشی نہیں ہے۔جنت پوشیدہ کو کہتے ہیں اور جنت کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ نعمتوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔اصل جنت خدا ہے۔جس کی طرف تردو منسوب ہی نہیں ہوتا۔اس لیے بہشت کے اعظم ترین انعامات میں رضوان من اللہ اکبر(التوبہ:۷۲)ہی رکھا ہے۔انسان انسان کی حیثیت سے کسی نہ کسی دکھ اور تردد میں ہوتا ہے،مگر جس قدر قرب الٰہی حاصل کرتا جاتا ہے اور تخلقواباخلاق اللہ سے رنگین ہوتا جاتا ہے،اسی قدر اصل سکھ اور آرام پاتاہے،جس قدر قرب الٰہی ہو گا۔لازمی طور پر اُسی قدر خدا کی نعمتوں سے حصہ لے گااور رفعؔ کے معنے اسی پر دلالت کرتے ہیں۔
نجات کامل خدا ہی کی طرف مرفوع ہو کر ہوتی ہے اور جس کا رفع نہ ہو وہ اخلدالی الارض(الاعراف:۱۷۷)ہو جاتا ہے۔پس رفع مسیحؑ سے مراد ان کے نجات یافتہ ہونے کی طرف ایما ہے اور یہ روحانی مراتب ہیں جن کو ہر ایک آنکھ دیکھ نہیں سکتی کہ کیونکر ایک انسان آسمان کی طرف اُٹھایا جاتا ہے۔‘‘
۷۔نزوؔل سے مُراد ’’نزولؔ سے مراد عزت وجلال کا اظہار ہوتا ہے۔پس ہمارا نزول بھی یہی شان رکھتا ہے۔پھر نزول سے پہلے منارہ کا وجود تو خود ہی ہو جائے گا۔
نزول سے مراد محض بعثت نہیں ہوتی۔‘‘
۸۔سورئہ فاتحہ کی جامع تفسیر الحمد للہ سے قرآن شریف اسی لیے شروع کیا گیا ہے تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی طرف ایما ہو اھدنا