اپنے عملوں ہی سے ملتا ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص ایسے برے عمل نہ کرے گا کہ وہ گائے یا بھینس کی جون میں جاوے یا بھیڑ بکری بنے تو پھر دودھ ہی نہ ملے اور اسی طرح پر کچھ بھی ہیں مل سکتا ۔پھر ایسا خدا جو نہ کچھ پیدا کرتا ہے اور نہ کسی کو کچھ دیتا ہے۔وہ ایک معطل خدا نہ ہوا تو اور کیا ہوا؟پھر اس تناسخ کے مسئلہ سے اخلاقی قوتوں پر یہ بڑی زد پڑتی ہے کہ انسان میں جوغیرت کی قوت رکھی گئی ہے اس کا ستیا ناس ہوتا ہے۔کیونکہ جب کوئی ایسی فہرست وید نے نہیں دی کہ فلاں شخص فلاں جون میں چلا گیا ہے۔تو یہ کیوں ممکن نہیں کہ ایک آدمی کسی وقت اور کسی جون میں اپنی ماں بہن سے بھی شادی کر کے بچے پیدا کرے گا یا باپ گھوڑا بن جاوے اور بیٹا اس پر سوار ہو کر چابکوں سے اس کی خبر لے۔غرض کہ یہ مسئلہ بہت ہی برے اور ناپاک نتیجوں کا پیدا کرنے والا ہے۔تناسخ ہی کیا کم تھا جو آریوں نے نیوگ بھی ویدوں میں سے نکال لیا۔‘‘؎۱ ۳نومبر۱۹۰۰؁ء نکات عشرہ ۱۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم مظہر رحمانیت ورحیمیت رحمانیت کا مظہر تام محمد صلی اللہ وسلم ہے۔کیونکہ محمدؑ کے معنے ہیں بہت تعریف کیا گیا۔اور رحمان کے معنی ہیں بلا مزدوبن مانگے بلا تفریق مومن وکافر کو دینے والا اور یہ صاف بات ہے کہ جو بن مانگے دے گا۔ اس کی تعریف ضرور کی جائے گی۔پس محمدؑ میں رحمانیت کی تجلی تھی اور اسم احمدؑمیں رحیمیت کا ظہور تھا۔کیونکہ رحیم کے معنے ہیں۔محنتوں اور کوششوں کو ضائع نہ کرنے والا اور احمدؑ کے معنے ہیں تعریف کرنے والا اور یہ بھی عام بات ہے کہ وہ شخص جو کسی کا عمدہ کام کرتا ہے،وہ اس سے خوش ہو جاتا ہے اور اس کی محنت پر ایک بدلہ دیتاہے اور اس کی تعریف کرتا ہے۔اس لحاظ سے احمدؑ میں رحیمیت کا ظہور ہے۔پس اللہ محمد(رحمن)احمد(رحیم)ہے۔گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ان دو عظیم الشان صفات رحمانیت ورحیمیت کے مظہر تھے۔‘‘ ۲۔دنیا ایک ریل گاڑی ’’دُنیا ایک ریل گاڑی ہے اور ہم سب کو عمر کے ٹکٹ دئیے گئے ہیں۔جہاں جہاں کسی کا سٹیشن آتا جاتا ہے اس کو اُتار دیا جاتا ہے۔یعنی وہ مر جاتاہے۔