تھا،اس لیے ابل کے لفط کو پسند فرمایا۔ اونٹوں میں ایک وسرے کی پیروی اور اطاعت کی قوت رکھی ہے۔دیکھو اونٹوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے اور وہ کس طرح پر اس اونٹ کے پیچھے ایک خاص انداز اور رفتار سے چلتے ہیں۔اور وہ اونٹ جو سب سے پہلے بطور امام اور پیشرو کے ہوتا ہے۔وہ ہوتا ہے جو بڑا تجربہ کار اور راستہ سے واقف ہو۔پھر سب اونٹ ایک دوسرے کے پیچھے برابر رفتار سے چلتے ہیں اور ان میں سے کسی کے دل میں بھی برابر چلنے کی ہوس پیدا نہیں ہوتی جو دوسرے جانوروں میں ہے۔جیسے گھوڑے وغیرہ میں۔گویا اونٹ کی سرشت میں اتباع امام کا مسئلہ مانا ہوا مسئلہ ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے افلا ینظرون الی الابل کہہ کر اس مجموعی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے جبکہ اونٹ ایک قطار میں جارہے ہوں۔اسی طرح پر ضروری ہے کہ تمدنی اور اتحادی حالت کو قائم رکھنے کے واسطے ایک امام ہو۔
پھر یہ بھی یاد رہے کہ یہ قطار سفر کے وقت ہوتی ہے۔پس دنیا کے سفر کو قطع کرنے کے واسطے جب تک ایک امام نہ ہو انسان بھٹک بھٹک کر ہلاک ہو جاوے۔
پھر اونٹ زیادہ بارکش اور زیادہ چلنے والا ہے ۔سب سے زیادہ صبر وبرداشت کا سبق ملتا ہے۔
پھر اونٹ کا خاصہ ہے کہ لمبے سفرو میں کئی کئی دنوں کا پانی جمع رکھتا ہے۔غافل نہیں ہوتا ۔پس مومن کو بھی ہر وقت اہنے سفر کے لئے تیار اور محتاط رہنا چاہیے اور بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔فان خیر الزاد التقویٰ(البقرہ:۱۹۸)
انظر کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیکھنا بچوں کی طرح دیکھنا نہیں ہے،بلکہ اس سے اتباع کا سبق ملتا ہے۔کہ جس طرح اونٹ پر تمدنی اور اتحادی حالت کو دکھایا گیا ہے۔اور ان میں اتباع امامت کی قوت ہے۔اسی طرح پر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اتباع امام کو اپنا شعار بنا دے،کیونکہ اونٹ جو اس کے خادم ہیں ان میں بھی یہ مادہ موجود ہے۔
’’کیف خلقت‘‘میں ان فوائد جامع کی طرف اشارہ ہے جو ابل کی مجموعی حالت سے پہنچتے ہیں۔‘‘؎۱
تناسخ ’’تناسخ کا مسئلہ اللہ تعالیٰ کی سخت توہین کا باعث ہے۔اور اخلاقی قوتوں کو خاک میں ملا دینے والا ہے۔کیونکہ جب یہ مان لیا گیا کہ دنیا میں جو کچھ ملتا ہے۔وہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے تو پھر یہ بھی ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ معاذ اللہ خدا بالکل معطل پڑا ہوا ہے۔کیونکہ خالق کے متعلق یہ مان لیا گیا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ملتا ہے وہ